Entertainment
مصنوعی ذہانت اور موسیقی: ٹائگا اور ڈوجا کیٹ کے درمیان تنازعہ
مشہور ریپر ٹائگا نے اپنے نئے البم میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کا کھل کر دفاع کیا ہے، جس پر ساتھی فنکارہ ڈوجا کیٹ کے ساتھ ان کا تنازعہ پیدا ہوگیا ہے۔ اس واقعے نے موسیقی کی دنیا میں اصلی اور جعلی مواد کے حوالے سے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
عالمی شہرت یافتہ ریپر ٹائگا نے اپنے تازہ ترین میوزک البم 'اسٹار فیس' میں مصنوعی ذہانت (AI) کے استعمال کا اعتراف کرتے ہوئے اس کا پرزور دفاع کیا ہے۔ ٹائگا کا کہنا ہے کہ انہوں نے البم کے کچھ حصوں کو بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کی مدد ضرور لی ہے، تاہم اس کے باوجود حتمی تخلیق اور موسیقی مکمل طور پر ان کی اپنی محنت کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بدلتے ہوئے وقت کے ساتھ فنکاروں کو جدید ٹیکنالوجی کو اپنانا چاہیے تاکہ موسیقی کے دائرہ کار کو مزید وسیع کیا جا سکے۔ دوسری طرف، موسیقی کی صنعت کے تمام فنکار اس نظریے کے حامی نہیں ہیں اور اس پر گہرے تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں۔
اس معاملے پر مشہور پاپ اسٹار ڈوجا کیٹ نے بھی اپنے خیالات کا کھل کر اظہار کیا ہے اور ٹائگا کے اس اقدام پر کڑی تنقید کی ہے۔ ڈوجا کیٹ اور دیگر ناقدین کا ماننا ہے کہ اگر موسیقی کی تیاری میں مشینوں اور الگورتھم کا اس حد تک استعمال کیا جائے گا، تو فن کار کی ذاتی تخلیقی روح اور اصل ہنر کہیں پیچھے رہ جائے گا۔ اس اختلافِ رائے نے دنیا بھر کے موسیقاروں، پروڈیوسرز اور مداحوں کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا ہے، جہاں ایک گروہ ٹیکنالوجی کو ترقی کا ضامن سمجھتا ہے، وہیں دوسرا گروہ اسے فن کی روح کے لیے خطرہ قرار دے رہا ہے۔
ٹائگا اور ڈوجا کیٹ کے درمیان اس عوامی بحث نے ایک پرانا سوال پھر سے زندہ کر دیا ہے کہ آخر اصل موسیقی کس کو کہا جاتا ہے۔ کیا کمپیوٹر کی مدد سے تیار کردہ دھنیں اور بول بھی روایتی موسیقی کی طرح مستند سمجھے جانے چاہئیں، یا اس سے فنکارانہ صداقت کو نقصان پہنچتا ہے؟ اس وقت انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر بھی مداح اسی بحث میں مصروف ہیں کہ آیا مصنوعی ذہانت کا موسیقی میں داخلہ ایک خوش آئند تبدیلی ہے یا پھر یہ اصل فنکاروں کے حقوق اور محنت پر ایک سوالیہ نشان ہے۔
ماہرینِ موسیقی کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں مصنوعی ذہانت کا استعمال مزید بڑھے گا، اس لیے انڈسٹری کو باضابطہ ضابطہ اخلاق بنانے کی ضرورت ہے۔ جب تک اس حوالے سے کوئی واضح لائحہ عمل سامنے نہیں آتا، ٹائگا اور ڈوجا کیٹ جیسے فنکاروں کے درمیان اس قسم کے مباحثے جاری رہنے کا امکان ہے۔ اس تنازعے نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی نے تفریح اور فن کے شعبے میں بھی نئے فکری چیلنجز پیدا کر دیے ہیں جن پر سنجیدہ غور و فکر کی اشد ضرورت ہے۔