LIVE
Loading Breaking News...

یورپی یونین کا اے آئی ایکٹ اور شفافیت کے تقاضے

News Image
یورپی یونین کے نئے مصنوعی ذہانت کے قانون کے تحت اے آئی سسٹمز کے فراہم کنندگان کے لیے شفافیت کی شقیں لازمی قرار دی گئی ہیں۔ اس قانون کا مقصد مصنوعی ذہانت کے استعمال میں شفافیت کو فروغ دینا اور عوامی تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔
مصنوعی ذہانت کی تیزی سے بڑھتی ہوئی دنیا میں قوانین اور ضوابط کی اہمیت دن بہ دن بڑھتی جا رہی ہے۔ حال ہی میں یورپی یونین کی جانب سے ایک ایسا جامع قانون سامنے آیا ہے جو دنیا بھر کی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ اس پیشرفت کے تحت، لوگوں کی آراء اور ماہرین کی گفتگو کا محور اب یورپی یونین کا نیا اے آئی ایکٹ بن چکا ہے، جس میں ٹیکنالوجی کے محفوظ اور منصفانہ استعمال پر زور دیا گیا ہے۔ اس نئے قانون کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کا آرٹیکل پچاس ہے، جو خاص طور پر بعض مخصوص مصنوعی ذہانت کے سسٹمز فراہم کرنے والوں اور انہیں استعمال کرنے والوں کے لیے شفافیت کی بنیادی ذمہ داریاں عائد کرتا ہے۔ اس شق کے تحت کمپنیاں اس بات کی پابند ہوں گی کہ وہ اپنے سسٹمز کے کام کرنے کے طریقوں کو واضح کریں اور صارفین کو اس بات سے آگاہ رکھیں کہ وہ کسی انسان سے نہیں بلکہ ایک مصنوعی ذہانت کے نظام سے بات چیت کر رہے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس قسم کے اقدامات سے ڈیجیٹل دنیا میں اعتماد کی فضا بحال ہوگی اور غلط معلومات یا ڈیپ فیکس کے خطرات کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔ شفافیت کے ان تقاضوں کا نفاذ اس بات کا ثبوت ہے کہ اب حکومتیں اور ریگولیٹرز ٹیکنالوجی کے اندھا دھند استعمال کے بجائے اس کے ذمہ دارانہ استعمال کو ترجیح دے رہے ہیں، جس کے دور رس نتائج سامنے آئیں گے۔