Business
امریکی سٹاک مارکیٹ میں خطرناک حد تک اضافہ: ماہرین کی تشویش
جے پی مورگن کے ماہر معاشیات نے خبردار کیا ہے کہ امریکی اسٹاک مارکیٹ کی موجودہ ویلیو ایشن گزشتہ چار دہائیوں کے تمام ریکارڈ توڑ چکی ہے۔ کارپوریٹ ایکویٹی کی یہ غیر معمولی شرح معیشت کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتی ہے۔
عالمی مالیاتی منڈیوں میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے جس میں جے پی مورگن ایسیٹ مینجمنٹ کے چیف گلوبل اسٹریٹجسٹ نے خبردار کیا ہے کہ امریکی اسٹاک مارکیٹ کا حجم ملکی مجموعی پیداوار (جی ڈی پی) کے مقابلے میں اس حد تک بڑھ چکا ہے جو گزشتہ چار دہائیوں کی تمام انتہاؤں کو پیچھے چھوڑ گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق کارپوریٹ ایکویٹی کی موجودہ سطح 'ڈاٹ کام ببل' کے دور سے دوگنا اور 1987 کے 'بلیک منڈے' کریش کے مقابلے میں تین گنا زیادہ ہو چکی ہے۔ یہ اعداد و شمار سرمایہ کاروں اور پالیسی سازوں کے لیے ایک الارم کی حیثیت رکھتے ہیں کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی مارکیٹ کی قدریں معاشی پیداوار سے اس قدر تیزی سے الگ ہوتی ہیں تو اس کے نتائج سنگین ہو سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسٹاک مارکیٹ میں یہ غیر معمولی اضافہ بنیادی طور پر ٹیکنالوجی سیکٹر میں سرمایہ کاری کے رجحان اور مصنوعی ذہانت سے وابستہ کمپنیوں کی اسٹاک ویلیو میں بے تحاشا اضافے کی وجہ سے ہے۔ تاہم، اس تیزی کے پیچھے چھپا ہوا خطرہ یہ ہے کہ مارکیٹ کی قیمتیں حقیقی معاشی کارکردگی کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتیں۔ جب ایکویٹی کا حجم جی ڈی پی کے 400 فیصد سے تجاوز کر جائے تو یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مارکیٹ ضرورت سے زیادہ گرم ہو چکی ہے اور کسی بھی معمولی معاشی جھٹکے کی صورت میں یہاں بڑی گراوٹ دیکھی جا سکتی ہے۔
اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ اگرچہ موجودہ مارکیٹ کے حالات ماضی کے بحرانوں سے مختلف دکھائی دیتے ہیں لیکن اصول وہی پرانے کام کر رہے ہیں۔ زیادہ لیوریج اور غیر متناسب قدریں ہمیشہ سے ہی طویل مدتی استحکام کے لیے خطرہ رہی ہیں۔ جے پی مورگن کی رپورٹ میں اس خدشے کا اظہار کیا گیا ہے کہ اگر فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں تبدیلیوں یا افراط زر کے دباؤ میں معمولی سا بھی اضافہ ہوتا ہے تو اسٹاک مارکیٹ کا یہ بلند و بالا مینار گر سکتا ہے۔ اس لیے سرمایہ کاروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ انتہائی احتیاط کا مظاہرہ کریں اور اپنے پورٹ فولیو کو متنوع بنائیں۔
آخر میں، یہ صورتحال نہ صرف امریکہ بلکہ پوری عالمی معیشت کے لیے ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ چونکہ عالمی مالیاتی نظام کا ایک بڑا حصہ امریکی اسٹاک مارکیٹ سے جڑا ہوا ہے، اس لیے کسی بھی بڑی اصلاح (Correction) کے اثرات پوری دنیا میں محسوس کیے جائیں گے۔ آنے والے مہینوں میں مارکیٹ کے رجحانات اس بات کا فیصلہ کریں گے کہ آیا یہ تیزی پائیدار ہے یا پھر یہ ایک اور بڑے مالیاتی ببل کے پھٹنے کا پیش خیمہ ثابت ہوگی۔ دنیا بھر کے مبصرین اب اس معاملے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ معاشی طوفان سے قبل ضروری اقدامات کیے جا سکیں۔