World
یو اے ای کا آبنائے ہرمز میں جہاز پر حملے پر سخت ردعمل
متحدہ عرب امارات نے آبنائے ہرمز میں اپنے ادنوک کے جہاز پر حملے کے بعد بین الاقوامی قانون کے تحت جہاز رانی کے حقوق کا بھرپور دفاع کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ یو اے ای نے اس واقعے کے بعد عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ اس اہم بین الاقوامی تجارتی راستے کو فوری طور پر بحال اور محفوظ بنائے۔
متحدہ عرب امارات نے بین الاقوامی سطح پر تشویش کی لہر دوڑاتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ آبنائے ہرمز میں واقع ان کے قومی ادارے ادنوک (ADNOC) کے بحری جہاز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس ناخوشگوار واقعے کے بعد اماراتی حکام نے دوٹوک الفاظ میں اعلان کیا ہے کہ وہ اپنی سمندری حدود اور بین الاقوامی قوانین کے تحت جہاز رانی کے بنیادی حقوق کا ہر قیمت پر دفاع کریں گے۔ یہ بحری راستہ عالمی معیشت اور تیل کی سپلائی کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، اور اس میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ یا خطرہ خطے کے امن کو داؤ پر لگا سکتا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق، حالیہ دنوں میں خطے کے اندر تناؤ میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھا گیا ہے۔ مختلف عالمی پلیٹ فارمز پر اس بحران کے حوالے سے لائیو اپ ڈیٹس جاری ہیں، جن میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ آبنائے ہرمز اور گرد و نواح کے سمندری راستے اب عسکری کشمکش کا شکار ہو رہے ہیں۔ امریکہ، ایران اور دیگر فریقین کے درمیان جاری کشیدگی کے اثرات اب تجارتی جہازوں تک پہنچ چکے ہیں، جس سے بین الاقوامی سمندری تجارت کے لیے سنگین خطرات پیدا ہو گئے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے حملے عالمی توانائی کی منڈیوں کو شدید نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
متحدہ عرب امارات کی حکومت نے عالمی برادری اور سلامتی کونسل سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس انتہائی حساس معاملے کا نوٹس لیں۔ یو اے ای نے آبنائے ہرمز کو فوری طور پر محفوظ بنانے اور اس کی مکمل بحالی کے لیے بین الاقوامی تعاون کی اپیل کی ہے تاکہ تجارتی قافلے بلا خوف و خطر اپنی منزل کی طرف رواں دواں رہ سکیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ عالمی سپلائی چین کو برقرار رکھنے کے لیے تمام فریقین کو سمندری قوانین کا احترام کرنا ہوگا اور بین الاقوامی پانیوں میں اشتعل انگیزی سے گریز کرنا لازمی ہے۔