World
یمن میں دوبارہ جنگ کا خدشہ: اقوام متحدہ کی شدید تشویش
اقوام متحدہ کے ہنگامی امدادی کوآرڈینیٹر نے خبردار کیا ہے کہ یمن میں 2022 کے جنگ بندی معاہدے کے بعد سے کشیدگی عروج پر ہے اور جنگ کے دوبارہ شروع ہونے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ خطے میں جاری سیاسی بحرانوں اور معاشی حالات نے لاکھوں افراد کو بھوک اور انسانی المیے کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔
اقوام متحدہ نے ایک تشویشناک انتباہ جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ یمن میں 2022 کے جنگ بندی معاہدے کے بعد سے اب تک کا سب سے بڑا بحران پیدا ہو گیا ہے اور ملک ایک بار پھر مکمل جنگ کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔ انسانی امور کے انڈر سیکرٹری جنرل اور ایمرجنسی ریلیف کوآرڈینیٹر ٹام فلیچر نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ یمن کی موجودہ صورتحال انتہائی نازک ہے اور اگر فوری طور پر بین الاقوامی کوششیں تیز نہ کی گئیں تو حالات قابو سے باہر ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطابق، جاری علاقائی کشیدگی اور سیاسی عدم استحکام نے یمن کے پہلے سے ہی کمزور ڈھانچے کو مزید خطرے میں ڈال دیا ہے۔
سلامتی کونسل کے اجلاس کے دوران یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی نے سعودی عرب کی جانب سے فراہم کی جانے والی معاونت کو یمن کے ریاستی اداروں کے لیے ایک لائف لائن قرار دیا ہے۔ تاہم، ایران اور دیگر علاقائی ممالک میں جاری تناؤ کے براہِ راست اثرات یمن کے عوام پر مرتب ہو رہے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق، اس کشیدگی کے نتیجے میں لاکھوں یمنی شہری خوراک کی شدید قلت اور قحط جیسی صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری طور پر جنگ بندی کو مستحکم نہ کیا گیا تو لاکھوں جانوں کا ضیاع ہو سکتا ہے۔
دریں اثنا، روس نے یمن پر عائد ناکہ بندی کو مکمل طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے موجودہ علاقائی کشیدگی کا ذمہ دار امریکہ اور اسرائیل کی پالیسیوں کو ٹھہرایا ہے۔ عالمی برادری اب یمن میں بڑھتے ہوئے اس تناؤ پر گہری تشویش کا اظہار کر رہی ہے، کیونکہ خطے کی صورتحال پہلے ہی غیر مستحکم ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یمن میں امن کا قیام نہ صرف مقامی آبادی بلکہ پورے مشرق وسطیٰ کے استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔ سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ سیاسی تصفیے کے لیے اپنی کوششیں تیز کرے اور انسانی امداد کی فراہمی میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔