World
ایران پر پابندیاں اور جنگی دباؤ: ایرانی ریاست کے برقرار رہنے کی وجوہات
ایران کو دہائیوں سے سخت ترین اقتصادی پابندیوں، جنگی حالات اور اندرونی و بیرونی دباؤ کا سامنا ہے لیکن اس کے باوجود ملکی ڈھانچہ برقرار ہے۔ اس تحریر میں ان اسباب کا جائزہ لیا گیا ہے جن کی وجہ سے ایرانی ریاست اس تمام تر تباہی کے باوجود اب تک قائم ہے۔
دہائیوں سے عالمی سطح پر عائد کی جانے والی سخت ترین اقتصادی پابندیوں، مسلسل جنگی خطرات اور اندرونی دباؤ کے باوجود ایران کا سیاسی اور ریاستی نظام تاحال برقرار ہے۔ اس صورتحال نے بین الاقوامی سیاسیات کے ماہرین کو حیرت میں ڈال رکھا ہے کیونکہ کسی بھی دوسری معیشت کو اتنی شدید بندشوں کے بعد تباہی کا سامنا کرنا پڑتا۔ ایران کی بقا کے پیچھے کئی اہم داخلی اور خارجی عوامل کارفرما ہیں جنہوں نے ملک کو مکمل انہدام سے بچائے رکھا ہے۔ ایرانی حکومت اور اس کے ریاستی اداروں نے ایسی متبادل معاشی حکمت عملی تیار کی ہے جو مغربی پابندیوں کے اثرات کو کسی حد تک کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔ ملک کے اندر موجود عسکری و سیاسی ڈھانچہ ریاست کی بنیادوں کو مضبوطی سے تھامے ہوئے ہے، جہاں اندرونی اختلاف رائے کو سخت گیر پالیسیوں کے ذریعے قابو میں رکھا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ، ایران کے کچھ اہم علاقائی اتحادی اور تجارتی شراکت دار بھی اس مشکل وقت میں اس کے ساتھ کھڑے ہیں، جس سے تیل اور دیگر اشیائے ضروریہ کی برآمد و درآمد کا سلسلہ کسی نہ کسی شکل میں جاری رہتا ہے۔ ایک اور اہم عنصر ایرانی عوام کی وہ لچک اور مزاحمتی کلچر ہے جو تاریخی طور پر بیرونی جارحیت یا دباؤ کے مقابلے میں ابھر کر سامنے آتا ہے۔ اگرچہ عام شہریوں کو مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کی کمی جیسے سنگین مسائل کا سامنا ہے، لیکن حکومتی بیانیہ اس تمام صورتحال کے لیے بیرونی عناصر اور مغربی ملکوں کی پالیسیوں کو ذمہ دار ٹھہراتا ہے۔ اس طرح، حکومت اندرونی عدم اطمینان کو قوم پرستانہ جذبات میں تبدیل کرنے میں کسی حد تک کامیاب رہی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ایران کا یہ مدافعتی نظام طویل مدت میں ملکی معیشت کے لیے پائیدار ثابت نہیں ہو سکتا، لیکن فی الحال یہ حکمت عملی ریاست کو قائم رکھنے اور دباؤ کو برداشت کرنے کے لیے کارآمد ثابت ہو رہی ہے۔ آنے والے دنوں میں خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال ہی طے کرے گی کہ ایران اپنی اس پالیسی پر مزید کتنی دیر تک قائم رہ سکتا ہے۔