LIVE
Loading Breaking News...

بھارت میں آزادی کے نعروں کی سیاست اور طلبا تحریکیں

News Image
بھارت میں گزشتہ ایک دہائی سے 'آزادی' کا نعرہ طلبا سیاست اور احتجاجی تحریکوں کا مرکز بنا ہوا ہے۔ اس نعرے کو استعمال کرنے والے کئی طلبا رہنماؤں کو ماضی میں جیلوں کا سامنا بھی کرنا پڑا ہے۔
بھارت میں گزشتہ ایک دہائی سے 'آزادی' کا لفظ محض ایک زبان کا حصہ نہیں رہا، بلکہ یہ طلبا سیاست اور عوامی احتجاجوں کی سب سے طاقتور علامت بن کر ابھرا ہے۔ دس سال قبل جب یونیورسٹی کیمپسز میں طلبا رہنماؤں نے آزادی کے نعرے بلند کیے تو اس وقت کے سیاسی اور سماجی حلقوں میں ایک بھونچال آ گیا تھا۔ حکومتی اداروں نے ان نعروں کو ریاست مخالف سرگرمیوں کے زمرے میں شامل کرتے ہوئے کئی طلبا رہنماؤں کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا، جس کے بعد یہ نعرہ ایک سیاسی بحث کا مستقل موضوع بن گیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ، 'آزادی' کے نعرے کی معنویت میں تبدیلی آئی ہے۔ اب یہ نعرہ صرف تعلیمی اداروں تک محدود نہیں رہا بلکہ ملک بھر میں ہونے والے مختلف سیاسی و سماجی مظاہروں میں بھی کثرت سے سنائی دیتا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ نعرہ اب بنیادی حقوق، اظہار رائے کی آزادی اور سماجی انصاف کے مطالبے کی ایک کثیر الجہتی شکل اختیار کر چکا ہے۔ اس کے باوجود، حکومتی اور دائیں بازو کی تنظیموں کی جانب سے اس نعرے پر شدید تنقید کی جاتی رہی ہے، جسے وہ ملک کی سالمیت کے خلاف قرار دیتے ہیں۔ اس نعرے کے گرد گھومتی کشمکش دراصل بھارت میں بڑھتی ہوئی سیاسی قطبیت کی عکاس ہے۔ ایک طرف وہ نوجوان طبقہ ہے جو اس نعرے کو آئینی حقوق اور جمہوریت کی بحالی کے لیے ایک ذریعہ سمجھتا ہے، تو دوسری جانب ریاستی ادارے اور حامی حلقے ہیں جو اسے ایک چیلنج کے طور پر دیکھتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں عدالتی کارروائیوں اور مختلف مقدمات نے اس موضوع کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، لیکن اس کے باوجود کیمپسز سے شروع ہونے والی یہ 'آزادی' کی گونج اب بھی قومی سیاسی دھارے کا ایک اہم حصہ ہے۔ مستقبل کے تناظر میں، یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ بھارت کی سیاست میں یہ نعرہ کس طرح مزید ارتقا پذیر ہوتا ہے۔ کیا یہ نعرہ محض ایک احتجاجی علامت رہے گا یا یہ کسی بڑی سماجی تبدیلی کا نقطہ آغاز بنے گا، اس کا فیصلہ آنے والے وقت کے سیاسی حالات کریں گے۔ تاہم یہ حقیقت اپنی جگہ اٹل ہے کہ 'آزادی' کا نعرہ بھارتی نوجوانوں کی سیاسی بیداری کا ایک ایسا استعارہ بن چکا ہے جسے نظر انداز کرنا کسی بھی سیاسی قوت کے لیے اب ممکن نہیں رہا۔