World
یمن کی بدلتی ہوئی جنگی صورتحال اور جدید ڈرونز کا اثر
یمنی تنازعہ میں اب ڈرونز کی ٹیکنالوجی صرف ایک فریق تک محدود نہیں رہی بلکہ اب دونوں جانب اس کا استعمال بڑھ چکا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلی آنے والے وقتوں میں خطے میں طاقت کے توازن کو تبدیل کر سکتی ہے۔
یمن میں جاری دہائیوں پر محیط تنازعہ ایک ایسے موڑ پر آ چکا ہے جہاں جنگی حکمت عملی اور آلات میں نمایاں تبدیلیاں دیکھی جا رہی ہیں۔ ماضی میں ڈرون ٹیکنالوجی پر چند طاقتور فریقین کی اجارہ داری تھی، تاہم اب یہ ٹیکنالوجی یمن کے میدانِ جنگ میں دونوں جانب عام ہو چکی ہے۔ اس پیشرفت نے جنگ کی نوعیت کو بدل کر رکھ دیا ہے اور یہ اشارہ دیا ہے کہ اگر مستقبل میں یہاں کوئی نیا تصادم شروع ہوتا ہے تو وہ پہلے سے بالکل مختلف ہوگا۔ یہ ٹیکنالوجیکل توازن کا بگڑنا علاقائی سلامتی کے لیے ایک نئے چیلنج کے طور پر سامنے آیا ہے۔ عسکری تجزیہ کاروں کے مطابق اب ڈرونز کے ذریعے حملے کرنا یا ان کا دفاع کرنا صرف ایک فریق کی صلاحیت نہیں رہی۔ جدید ترین ڈرون اب نہ صرف سستے دستیاب ہیں بلکہ انہیں چلانے کی تربیت اور تکنیکی مہارت بھی وسیع پیمانے پر پھیل چکی ہے۔ ماضی میں جو تکنیکی برتری کچھ مخصوص ممالک کے پاس تھی، اب وہ زمینی حقیقتوں کے مطابق تبدیل ہو چکی ہے۔ اس صورتحال نے یمن میں جاری خانہ جنگی اور علاقائی مداخلت کے پورے منظرنامے کو ازسرنو مرتب کیا ہے۔ آنے والے وقتوں میں ڈرون ٹیکنالوجی کے وسیع تر استعمال سے نہ صرف فوجی اہداف کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے بلکہ عام شہریوں کی تنصیبات اور انفراسٹرکچر بھی براہ راست زد میں آ سکتے ہیں۔ جنگی ماہرین کا یہ ماننا ہے کہ یمن میں اگلی ممکنہ جنگ میں ڈرونز کے ساتھ ساتھ سائبر جنگ اور دیگر جدید ذرائع کا استعمال بھی فیصلہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔ عالمی طاقتیں اور علاقائی ممالک اس بدلتی ہوئی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، کیونکہ ڈرون ٹیکنالوجی کا پھیلاؤ صرف یمن تک محدود نہیں رہے گا بلکہ یہ پورے مشرق وسطیٰ کے دفاعی نظام کو متاثر کر سکتا ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اس ٹیکنالوجی کے غیر قانونی استعمال کو روکنے کے لیے بین الاقوامی سطح پر ٹھوس اقدامات کیے جائیں تاکہ خطے میں جاری کشیدگی کو مزید گہرا ہونے سے روکا جا سکے۔ یمن کے حالیہ حالات اس بات کا ثبوت ہیں کہ ٹیکنالوجی کس طرح قدیم جنگوں کو جدید اور زیادہ خطرناک تنازعات میں تبدیل کر سکتی ہے۔