World
انڈونیشیا میں ہولناک زلزلہ: 47 افراد ہلاک، امدادی سرگرمیاں جاری
انڈونیشیا کے جزیرے فلورس کے قریب آنے والے شدید زلزلے کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 47 ہو گئی ہے جبکہ درجنوں افراد زخمی ہوئے ہیں۔ حکام ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کے لیے ریسکیو آپریشن کر رہے ہیں اور متاثرین کے لیے امدادی سامان پہنچایا جا رہا ہے۔
انڈونیشیا کے مشرقی جزیرے فلورس کے قریب آنے والے 7.7 شدت کے طاقتور زلزلے نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہے، جس کے نتیجے میں اب تک کم از کم 47 افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔ انڈونیشیا کی نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایجنسی (BNPB) کے مطابق زلزلے سے تقریباً 160 گھر، درجنوں تعلیمی و طبی مراکز اور دیگر عوامی عمارتیں شدید متاثر ہوئی ہیں۔ ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ زلزلے کے جھٹکے اتنے شدید تھے کہ لوگ عمارتوں کے ملبے تلے دب گئے، جنہیں نکالنے کے لیے امدادی ٹیمیں دن رات کام کر رہی ہیں۔ زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کے باعث سڑکیں بند ہو گئی ہیں، جس سے امدادی کاموں میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
مقامی رہائشیوں نے اس زلزلے کو اپنی زندگی کا سب سے خوفناک تجربہ قرار دیا ہے۔ زلزلے کے مرکز کے قریب واقع شہروں کے مکینوں کا کہنا ہے کہ زمین کے جھٹکے ایسے محسوس ہوئے جیسے وہ کسی ٹرامپولین پر کھڑے ہوں۔ زلزلے کے بعد خوفزدہ شہریوں کی بڑی تعداد کھلے آسمان تلے رات گزارنے پر مجبور ہے، کیونکہ ماہرین نے آفٹر شاکس کے خطرے کے پیشِ نظر متاثرہ عمارتوں میں نہ جانے کی تنبیہ کی ہے۔ ریڈ کراس اور ریڈ کریسنٹ سوسائٹیز کی جانب سے تقریباً 2 ہزار متاثرین کے لیے عارضی پناہ گاہوں اور امدادی سامان کی فراہمی کے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ یورپی یونین نے بھی انڈونیشیا کی مدد کے لیے سیٹلائٹ ٹیکنالوجی فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے تاکہ ریسکیو آپریشن کو بہتر بنایا جا سکے۔
پاکستان کے صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے انڈونیشیا میں ہونے والی جانی و مالی نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے انڈونیشیائی صدر پرابوو سبیانٹو اور متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کرتے ہوئے پاکستانی عوام کی جانب سے مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان اس مشکل گھڑی میں اپنے برادر ملک انڈونیشیا کے ساتھ کھڑا ہے اور ہر ممکن امداد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔ انڈونیشیا پیسیفک کے 'رنگ آف فائر' پر واقع ہونے کی وجہ سے اکثر زلزلوں کی زد میں رہتا ہے، جس کے باعث یہاں زلزلہ پیما سرگرمیوں کا ایک طویل ریکارڈ موجود ہے۔ حکام اب بھی ساحلی علاقوں میں سونامی کے ممکنہ خطرے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، حالانکہ فی الحال سونامی کی وارننگ واپس لے لی گئی ہے۔