LIVE
Loading Breaking News...

کے پی حکومت کی وفاقی مالیاتی کٹوتی پر شدید تنقید اور تردید

News Image
خیبر پختونخوا حکومت نے وفاقی مالیاتی منتقلی میں چھ ارب چار کروڑ روپے کی کٹوتی کو یکسر مسترد کر دیا۔ وزیر اعلیٰ نے واضح کیا ہے کہ صوبائی حکومت اپنے آئینی حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔
خیبر پختونخوا حکومت نے وفاقی مالیاتی منتقلی میں چھ ارب چار کروڑ روپے کی کٹوتی کی تجویز کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے صوبے کے مالی حقوق پر براہ راست ڈاکہ قرار دیا ہے۔ صوبائی حکام کے مطابق وفاقی وزارت خزانہ کی جانب سے فنڈز میں یہ کٹوتی کرنے کا ارادہ ظاہر کیا گیا تھا جسے خیبر پختونخوا کی انتظامیہ نے سختی سے نامنظور کر دیا ہے۔ اس حوالے سے مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اس طرح کی یکطرفہ کٹوتیاں صوبائی خودمختاری اور آئینی اصولوں کے منافی ہیں۔ اس معاملے پر خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ نے واشگاف الفاظ میں کہا ہے کہ صوبائی حکومت نے وفاق کے ساتھ حصے کی کٹوتی سے متعلق کسی بھی قسم کے مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط نہیں کیے ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ صوبے کے مالیاتی حقوق کے حوالے سے کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور کے پی حکومت عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہر آئینی اور قانونی فورم پر آواز بلند کرے گی۔ موجودہ سیاسی اور مالیاتی تناظر میں اس کشیدگی نے مرکز اور صوبے کے تعلقات کو ایک بار پھر چیلنج سے دوچار کر دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ فنڈز کی تقسیم کے عمل میں شفافیت اور باہمی اتفاق رائے کا ہونا انتہائی ضروری ہے تاکہ کسی بھی قسم کے تنازعات سے بچا جا سکے۔ خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے اس بابت سخت مؤقف اپنانے کے بعد آنے والے دنوں میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان بات چیت کا نیا دور شروع ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔