World
لوزیانا ایل این جی ٹرمینل: ٹرمپ کا انرجی ایمرجنسی پلان اور ماحولیاتی چیلنجز
نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ لوزیانا میں واقع ایل این جی ٹرمینل کی توسیع کے لیے ہنگامی حالات کے تحت منظوری کا عمل شروع کرنے جا رہی ہے۔ اس اقدام سے ماحولیاتی جائزے کے عمل کو مختصر کیا جائے گا جس پر ماہرین اور مقامی باشندوں کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
امریکہ میں نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے ملک میں توانائی کے شعبے کو وسعت دینے کے لیے ایک نئی حکمت عملی پر کام شروع کر دیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں لوزیانا کے قریب واقع ایک بڑے مائع قدرتی گیس (ایل این جی) ٹرمینل کی اربوں ڈالر کی توسیع کو تیز کرنے کے لیے 'انرجی ایمرجنسی' یا ہنگامی توانائی کے نفاذ کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ یہ ٹرمینل، جو ابھی دو سال قبل ہی آپریشنل ہوا ہے، اب اپنی پیداواری صلاحیت کو کئی گنا بڑھانے کا خواہشمند ہے، جس کے لیے ٹرمپ انتظامیہ ایک نئے اور مختصر منظوری کے عمل کا استعمال کر رہی ہے۔
نئے حکومتی منصوبے کے تحت، ماحولیاتی اثرات کے جائزے (Environmental Review) کے عمل کو کافی حد تک مختصر اور آسان بنایا جا رہا ہے۔ عام طور پر، اس قسم کے بڑے منصوبوں کے لیے طویل عرصے تک جانچ پڑتال کی جاتی ہے تاکہ مقامی ماحولیات اور جنگلی حیات پر پڑنے والے اثرات کا اندازہ لگایا جا سکے۔ تاہم، 'ایمرجنسی' کے نفاذ سے وفاقی ادارے ان قانونی تقاضوں کو تیزی سے نمٹا سکیں گے، جس سے ٹرمینل کے توسیعاتی کام میں کئی سالوں کی بچت ہو سکتی ہے۔ حکومت کا موقف ہے کہ اس سے ملکی توانائی کی برآمدات میں اضافہ ہوگا اور معیشت کو مضبوطی ملے گی۔
دوسری جانب، ماحولیاتی کارکنوں اور مقامی باشندوں نے اس فیصلے پر سخت تنقید کی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ماحولیاتی جانچ کے عمل میں کوتاہی سے خطے کی آب و ہوا اور آبی ذخائر پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ ان کا خدشہ ہے کہ اس طرح کی نرمیوں سے نہ صرف آلودگی بڑھے گی بلکہ تحفظِ ماحول کے قوانین کی حیثیت بھی کمزور پڑ جائے گی۔ ماہرینِ توانائی کا کہنا ہے کہ یہ قدم ٹرمپ کے 'ڈرل، بے بی، ڈرل' کے نعرے کا حصہ ہے، جس کا مقصد امریکہ کو دنیا میں توانائی کا سب سے بڑا برآمد کنندہ بنانا ہے۔
آنے والے ہفتوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا یہ ہنگامی اقدامات عدالتی چیلنجز کا سامنا کرتے ہیں یا نہیں۔ ٹرمینل انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ یہ توسیع عالمی سطح پر توانائی کے بحران کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ مخالفین کا مطالبہ ہے کہ ترقی کے نام پر ماحول کو داؤ پر نہیں لگایا جانا چاہیے۔ اس معاملے پر واشنگٹن میں ہونے والی بحثیں آنے والے وقت میں امریکی توانائی پالیسی کا ایک اہم حصہ بن چکی ہیں۔