LIVE
Loading Breaking News...

جدید ڈرون ٹیکنالوجی: ڈارپا کا بھاری وزن اٹھانے والے ڈرونز پر کام کرنے والی ٹیموں کو اعزاز

News Image
امریکی دفاعی ادارے ڈارپا نے ایسی جدید ڈرون ٹیکنالوجی متعارف کرانے والی ٹیموں کی خدمات کا اعتراف کیا ہے جو ہلکے وزن کے باوجود بھاری کارگو اٹھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ پیش رفت مستقبل میں لاجسٹک اور عسکری امداد کی فراہمی کے شعبے میں ایک انقلابی تبدیلی ثابت ہو سکتی ہے۔
امریکی محکمہ دفاع کے تحقیقی ادارے 'ڈارپا' (DARPA) نے حال ہی میں ایسی جدید ڈرون ٹیموں اور انجینئرز کی خدمات کا اعتراف کیا ہے جنہوں نے چھوٹے اور ہلکے وزن کے ہیلی کاپٹرز اور ملٹی روٹر ڈرونز بنانے میں غیر معمولی کامیابی حاصل کی ہے۔ روایتی طور پر اب تک تیار کیے جانے والے کارگو ڈرونز اور ہیلی کاپٹرز کی کارکردگی کا تناسب زیادہ سے زیادہ ایک کے مقابلے میں ایک (1:1) تک محدود تھا، جس کا مطلب ہے کہ ڈرون کا اپنا وزن اس کے اٹھائے گئے بوجھ کے برابر ہوتا تھا۔ تاہم، ڈارپا کے نئے پروجیکٹس کے ذریعے اس تناسب کو چار کے مقابلے میں ایک (4:1) یا اس سے بھی زیادہ بڑھانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ اس تکنیکی کامیابی کا بنیادی مقصد ڈرون کی افادیت کو کئی گنا بڑھانا ہے۔ اگر ایک ہلکا ڈرون اپنے وزن سے چار گنا زیادہ وزن اٹھانے کے قابل ہو جائے تو یہ نقل و حمل کے شعبے میں ایک گیم چینجر ثابت ہوگا۔ اس ٹیکنالوجی کی بدولت نہ صرف جنگی میدان میں سپلائی چین کو بہتر بنایا جا سکے گا بلکہ دور دراز کے علاقوں میں ہنگامی طبی امداد، خوراک اور دیگر سامان کی ترسیل انتہائی کم وقت اور کم لاگت میں ممکن ہو سکے گی۔ ڈارپا کی جانب سے ان ٹیموں کی حوصلہ افزائی کا مقصد صنعتی اور دفاعی شعبوں میں ایسے خود کار نظاموں کا فروغ ہے جو توانائی کی بچت کے ساتھ زیادہ سے زیادہ بوجھ اٹھانے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ ماہرین کے مطابق، ڈرون ٹیکنالوجی میں یہ پیش رفت بیٹریاں استعمال کرنے والے چھوٹے طیاروں کے لیے ایک بڑا چیلنج بھی ہے، کیونکہ وزن زیادہ اٹھانے کے لیے زیادہ طاقت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس پروجیکٹ میں شامل انجینئرز نے جدید میٹریل سائنس اور ایرو ڈائنامکس کے اصولوں کو استعمال کرتے ہوئے ایسے ڈیزائن تیار کیے ہیں جو ڈرون کی ساخت کو ہلکا رکھتے ہوئے اس کی اٹھانے کی طاقت کو بڑھاتے ہیں۔ یہ تحقیق مستقبل میں شہری نقل و حمل اور کمرشل ڈرون ڈیلیوری سروسز کے لیے بھی نئی راہیں کھولے گی۔ ڈارپا کا یہ اقدام اس بات کا غماز ہے کہ مستقبل میں ایسے ڈرونز کی مانگ میں اضافہ ہوگا جو کارکردگی اور حجم کے لحاظ سے زیادہ متوازن ہوں۔