LIVE
Loading Breaking News...

آرٹیفیشل انٹیلی جنس اور ملازمتوں کا تحفظ: چین کا تاریخی فیصلہ

News Image
چین کی عدالت نے آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے نفاذ کے بعد ملازمین کو ملازمت سے برطرف کرنے کے عمل کو غیر قانونی قرار دے دیا ہے۔ یہ فیصلہ ہانگزو میں ایک ٹیکنالوجی کمپنی کے ملازم کی جانب سے دائر کیے گئے کیس کے بعد سامنے آیا ہے۔
چین کے شہر ہانگزو میں ایک مقامی عدالت نے آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) سے متعلق ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی کمپنی کو صرف اس بنیاد پر اپنے ملازمین کو نوکری سے نکالنے کا حق حاصل نہیں کہ ان کا کام اب خودکار سسٹم یا اے آئی کے ذریعے انجام دیا جا سکتا ہے۔ یہ فیصلہ ایک ٹیکنالوجی فرم کے ملازم 'ژو' کی جانب سے دائر کردہ مقدمے کے بعد سامنے آیا، جنہیں کمپنی نے اے آئی کے نفاذ کے بعد فارغ کر دیا تھا۔ عدالتی حکمنامے نے ٹیکنالوجی کمپنیوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ انسانی وسائل کو ٹیکنالوجی کے ساتھ تبدیل کرنے کے عمل میں لیبر قوانین کی پاسداری کریں۔ اس عدالتی فیصلے کو عالمی سطح پر مزدوروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ایک بڑی پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ چین کا یہ اقدام ان ممالک کے لیے ایک مثال ہے جہاں اے آئی کی بڑھتی ہوئی مانگ نے ملازمتوں کے بحران کو جنم دیا ہے۔ امریکہ سمیت کئی مغربی ممالک میں فی الحال ایسی کوئی مخصوص قانونی تحفظات موجود نہیں ہیں جو ملازمین کو اے آئی کی وجہ سے ہونے والی بے روزگاری سے بچا سکیں۔ وہاں کمپنیوں کو اس حوالے سے کافی آزادی حاصل ہے، جس کے باعث ورکرز کی جانب سے عدم تحفظ کا خدشہ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، چین کا یہ فیصلہ نہ صرف ٹیکنالوجی کے شعبے میں کام کرنے والے افراد کے لیے حوصلہ افزا ہے بلکہ یہ کمپنیوں کو بھی مجبور کرے گا کہ وہ ٹیکنالوجی اپ گریڈیشن کے دوران انسانی وسائل کی ری سکلنگ یا متبادل روزگار فراہم کریں۔ یہ عدالتی نظیر آنے والے وقتوں میں لیبر قوانین میں بڑی تبدیلیوں کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ دنیا بھر میں اب خودکار نظام کے انسانی ملازمتوں پر اثرات کو سنجیدگی سے زیر بحث لایا جا رہا ہے۔ آخر میں، یہ فیصلہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ٹیکنالوجی کی ترقی انسانی زندگی کے معیار اور روزگار کو متاثر کیے بغیر ہونی چاہیے۔ چین کی عدالت کا یہ اقدام اس بحث کو مزید تقویت دیتا ہے کہ کیا مصنوعی ذہانت کو صرف منافع بڑھانے کے لیے استعمال کیا جائے یا پھر انسانی سماج کے ساتھ ہم آہنگ کر کے ترقی کا سفر طے کیا جائے۔ آنے والے دنوں میں دیگر ممالک بھی اسی طرح کے قوانین متعارف کرانے پر غور کر سکتے ہیں تاکہ اے آئی انقلاب کے منفی اثرات کو کم کیا جا سکے۔