LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ کی جانب سے چینی ڈرونز پر بھاری ٹیرف کا نفاذ

News Image
ٹرمپ انتظامیہ نے غیر ملکی سپلائرز پر انحصار کم کرنے کے لیے درآمدی ڈرونز پر 100 فیصد تک کسٹم ڈیوٹی عائد کر دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد امریکی ٹیکنالوجی مارکیٹ کو چینی اثر و رسوخ سے محفوظ رکھنا اور مقامی صنعت کو فروغ دینا ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ نے ایک اہم اور سخت تجارتی اقدام کے تحت درآمدی ڈرونز اور ان کے کل پرزہ جات پر 100 فیصد تک ٹیرف عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد امریکہ کا دیگر غیر ملکی سپلائرز، بالخصوص چین پر انحصار کم کرنا اور مقامی سطح پر ٹیکنالوجی کی تیاری کو تقویت دینا ہے۔ حکومتی عہدیداران کے مطابق، یہ پالیسی امریکی سلامتی اور معاشی خودمختاری کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہے تاکہ اہم ٹیکنالوجی کے شعبوں میں بیرونی اثر و رسوخ کو محدود کیا جا سکے۔ یہ نئی ڈیوٹی خاص طور پر بھاری ڈرونز اور جدید سنسرز سے لیس آلات پر لاگو ہوگی جو حساس نوعیت کے کاموں میں استعمال ہوتے ہیں۔ ماہرینِ معاشیات کا خیال ہے کہ ٹیرف کی یہ شرح نہ صرف درآمد کنندگان کے لیے ڈرون ٹیکنالوجی کو مہنگا کر دے گی بلکہ عالمی سطح پر سپلائی چین میں بھی خلل پیدا کرے گی۔ چین، جو کہ عالمی سطح پر ڈرون سازی کا سب سے بڑا مرکز ہے، اس فیصلے سے براہ راست متاثر ہوگا۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ قدم 'ڈی کپلنگ' یعنی چین سے اپنی معاشی وابستگی ختم کرنے کی ایک بڑی کوشش ہے تاکہ ٹیکنالوجی کے شعبے میں امریکہ خود کفیل ہو سکے۔ اس اقدام سے دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے موجود تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہونے کا قوی امکان ہے، جس کے اثرات عالمی ٹیکنالوجی مارکیٹ پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ تجزیہ کار اس بات پر بھی بحث کر رہے ہیں کہ آیا یہ سخت اقدامات امریکی ڈرون صنعت کو درحقیقت ترقی دے پائیں گے یا پھر اس سے امریکی کمپنیوں کے لیے پیداواری لاگت میں اضافہ ہوگا، کیونکہ ان میں سے بہت سی کمپنیاں ابھی بھی اپنے پرزہ جات کے لیے چینی سپلائرز پر انحصار کرتی ہیں۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ طویل المدتی بنیادوں پر یہ پالیسی ملکی سطح پر سرمایہ کاری کو راغب کرے گی اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرے گی۔ تاہم، فی الحال انڈسٹری میں شدید تشویش پائی جاتی ہے کیونکہ ٹیرف میں اضافے سے ڈرونز کی قیمتوں میں فوری طور پر غیر معمولی اضافہ متوقع ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ چین اس اقدام کا کیا ردعمل دیتا ہے اور کیا یہ تجارتی جنگ مزید شعبوں تک پھیلتی ہے یا نہیں۔