LIVE
Loading Breaking News...

لبنان میں اسرائیل کے شدید فضائی حملے، متعدد ہلاکتوں کی تصدیق

News Image
جنوبی لبنان میں ہونے والے اسرائیلی فضائی حملوں کے نتیجے میں کم از کم نو افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے۔ حالیہ دنوں میں خطے میں بڑھتی ہوئی عسکری کارروائیوں نے مقامی آبادی میں شدید خوف و ہراس پیدا کر دیا ہے۔
جنوبی لبنان کے علاقوں میں اسرائیلی فوج کی جانب سے کی جانے والی شدید بمباری کے نتیجے میں کم از کم نو افراد کے جاں بحق ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق حالیہ دنوں میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جاری تناؤ میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے باعث ہلاکتوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ مقامی حکام اور میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ حملے لبنان کے جنوبی علاقوں کے مختلف مقامات کو نشانہ بنا کر کیے گئے، جن میں دیہات اور قصبے شامل ہیں، جہاں عام شہریوں کی بڑی تعداد رہائش پذیر ہے۔ اسرائیلی ڈیفنس فورسز (IDF) کی جانب سے کی جانے والی تازہ ترین کارروائیوں کا دائرہ کار نبیطیہ کے شمال میں واقع دیر الزہرانی جیسے علاقوں تک پھیل چکا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ حملے جون میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد سے اب تک کا سب سے شدید جانی نقصان ہے، جس نے خطے میں ایک نئی جنگ کے خدشات کو جنم دیا ہے۔ حملوں کے نتیجے میں متعدد رہائشی عمارتیں زمین بوس ہو چکی ہیں اور امدادی کارکنوں کو ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ مقامی ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے اور زخمیوں کی بڑی تعداد کے پیش نظر طبی سہولیات پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔ دوسری جانب، عالمی برادری نے لبنان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔ خطے کے ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے، جس کے اثرات پورے مشرق وسطیٰ کی سلامتی پر مرتب ہوں گے۔ لبنان کی حکومت نے بین الاقوامی اداروں سے مداخلت کی درخواست کی ہے تاکہ معصوم شہریوں کی جانوں کو مزید ضائع ہونے سے بچایا جا سکے۔ اسرائیل کی جانب سے جاری ان حملوں پر تاحال کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا ہے، تاہم عسکری حکام کا دعویٰ ہے کہ یہ کارروائیاں مخصوص اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے کی جا رہی ہیں۔ فی الحال، جنوبی لبنان کے رہائشی علاقوں سے نقل مکانی کا سلسلہ بھی تیز ہو گیا ہے کیونکہ لوگ اپنی جانیں بچانے کے لیے محفوظ مقامات کی طرف رخ کر رہے ہیں۔ اس بڑھتی ہوئی کشیدگی نے پہلے سے ہی معاشی بحران کا شکار لبنان کے لیے مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ عالمی سطح پر سفارتی کوششیں جاری ہیں کہ کسی طرح جنگ بندی کے معاہدے کو بحال کیا جا سکے اور خونریزی کا یہ سلسلہ بند ہو سکے۔