LIVE
Loading Breaking News...

وزیراعظم اور صدر کی ملاقات، سہ فریقی دفاعی معاہدے پر اہم بریفنگ

News Image
وزیر اعظم شہباز شریف نے صدر مملکت آصف علی زرداری سے ملاقات کر کے انہیں پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے مابین طے پانے والے دفاعی معاہدے کے اہم نکات سے آگاہ کیا۔ اس اہم ملاقات میں علاقائی صورتحال اور تینوں برادر ممالک کے مابین دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف نے ایوانِ صدر میں صدر مملکت آصف علی زرداری سے ایک اہم ملاقات کی جس میں ملکی سیاسی صورتحال اور بین الاقوامی امور پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔ ملاقات کے دوران وزیر اعظم نے صدر مملکت کو حال ہی میں طے پانے والے پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے سہ فریقی دفاعی معاہدے کے پس منظر اور اس کے اہم نکات کے بارے میں بریفنگ دی۔ ذرائع کے مطابق اس معاہدے کا مقصد تینوں برادر ممالک کے مابین دفاعی پیداوار، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور عسکری استعداد کار میں اضافہ کرنا ہے۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ اپنے دیرینہ تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے اور یہ نیا دفاعی اتحاد خطے میں امن اور استحکام کے لیے ایک سنگ میل ثابت ہوگا۔ انہوں نے صدر زرداری کو بتایا کہ سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ دفاعی شعبے میں تعاون بڑھانے سے پاکستان کی عسکری صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ ہوگا اور اس سے تکنیکی مہارتوں کے تبادلے کے نئے دروازے بھی کھلیں گے۔ صدر آصف علی زرداری نے اس سہ فریقی دفاعی پیش رفت کو سراہتے ہوئے کہا کہ برادر اسلامی ممالک کے ساتھ دفاعی شعبے میں قریبی اشتراکِ عمل وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تینوں ممالک کے مابین دفاعی تعاون کا یہ نیا باب نہ صرف خطے کی سکیورٹی کے لیے ناگزیر ہے بلکہ اس سے معاشی و صنعتی شعبوں میں بھی ترقی کے مواقع پیدا ہوں گے۔ صدر مملکت نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر دفاعی خود انحصاری کے حصول کے لیے ہر ممکن کوششیں جاری رکھے گا۔ ملاقات میں ملکی معاشی استحکام اور موجودہ سیاسی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پاکستان کو درپیش داخلی و خارجی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تمام قومی اداروں اور سیاسی قوتوں کے مابین ہم آہنگی انتہائی ضروری ہے۔ وزیر اعظم نے صدر کو ملکی ترقی کے لیے حکومت کے جاری اقدامات سے بھی آگاہ کیا، جس پر صدر زرداری نے حکومتی کوششوں پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے مستقبل کے لائحہ عمل کے لیے اپنی تجاویز بھی پیش کیں۔