Politics
نواز شریف کا سیاسی مخالفین سے اختلافات ختم کرنے پر زور
مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف نے کہا ہے کہ سیاسی اختلافات کو ذاتی دشمنی میں تبدیل نہیں کیا جانا چاہیے اور ملک کے وسیع تر مفاد میں مل بیٹھ کر کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے آزاد کشمیر کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا جہاں حکمران جماعت اب ترقیاتی منصوبوں پر توجہ مرکوز کرنے کا عزم کر رہی ہے۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف نے سیاسی جماعتوں اور مخالفین پر زور دیا ہے کہ وہ ملکی سیاست میں موجود اختلافات کو ذاتی دشمنی میں تبدیل نہ کریں۔ مری میں پارٹی کے اہم اجلاس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جمہوری نظام میں سیاسی رقابت ایک فطری عمل ہے تاہم اسے کبھی بھی قومی مفاد پر حاوی نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اس وقت معاشی اور سیاسی چیلنجز سے گزر رہا ہے، اس لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو چاہیے کہ وہ باہمی احترام کو برقرار رکھیں اور مل کر مسائل کا حل تلاش کریں۔ نواز شریف نے کہا کہ سیاست کا مقصد عوام کی خدمت ہے، نہ کہ ایک دوسرے کی کردار کشی کرنا یا باہمی نفرت کو فروغ دینا۔
اس اجلاس کا مرکزی ایجنڈا آزاد کشمیر میں حکومت کی تشکیل اور وہاں درپیش حالیہ انتظامی چیلنجز تھے۔ حالیہ عرصے میں آزاد کشمیر میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں اور حکومتی سطح پر ہونے والی تبدیلیوں کے تناظر میں مسلم لیگ (ن) نے اپنی حکمت عملی کو نئے سرے سے مرتب کیا ہے۔ پارٹی قیادت نے تسلیم کیا ہے کہ ماضی میں حکومتی سطح پر کچھ کوتاہیاں ہوئی ہیں جن کے باعث عوام میں بے چینی پیدا ہوئی۔ اب پارٹی کا عزم ہے کہ وہ عوامی شکایات کا ازالہ کرے گی اور خطے میں ترقیاتی کاموں کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرے گی۔
دوسری جانب، حکمران جماعت کے رہنماؤں نے مظاہرین کو 'محب وطن' قرار دیتے ہوئے ان کے مطالبات پر ہمدردانہ غور کرنے کا اشارہ دیا ہے۔ سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی جانب سے اپنایا گیا یہ تازہ موقف سیاسی منظر نامے میں ایک اہم موڑ ہے۔ اس تبدیلی کو ایک طرف جہاں حکومتی کارکردگی میں بہتری لانے کے اقدام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، وہیں دوسری طرف اسے سیاسی کشیدگی کم کرنے کی ایک کوشش بھی قرار دیا جا رہا ہے۔ نواز شریف کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک میں سیاسی استحکام کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ محسوس کی جا رہی ہے تاکہ معاشی بحالی کے سفر کو تیز کیا جا سکے۔