Technology
ڈیپ سیک وی 4 پرو اور نیشنل سپر کمپیوٹنگ انٹرنیٹ کا نیا سنگ میل
چینی مصنوعی ذہانت کی کمپنی ڈیپ سیک نے اپنا نیا ورژن وی 4 پرو متعارف کروا دیا ہے جو اب نیشنل سپر کمپیوٹنگ انٹرنیٹ پر دستیاب ہے۔ یہ پیشرفت ٹیکنالوجی کی دنیا میں کمپیوٹنگ پاور اور ماڈل پرائسنگ کے نئے رجحانات کی عکاسی کرتی ہے۔
مصنوعی ذہانت کی دنیا میں ایک اہم پیش رفت کے دوران، ڈیپ سیک (DeepSeek) نے اپنے جدید ترین ماڈل 'وی 4 پرو' (V4 Pro) کو باضابطہ طور پر لانچ کر دیا ہے۔ اس ماڈل کے ساتھ ہی 'ہارنس' (Harness) کو بھی چین کے نیشنل سپر کمپیوٹنگ انٹرنیٹ پر فعال کر دیا گیا ہے، جو ایک بڑی تکنیکی کامیابی تصور کی جا رہی ہے۔ یہ نیا ورژن اپنی سابقہ کارکردگی اور کمپیوٹنگ صلاحیتوں کے لحاظ سے ایک بڑا قدم ہے، جس سے چین کی ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی صلاحیتوں میں مزید اضافہ ہوگا۔
نئے ماڈل کی قیمتوں کے تعین پر مارکیٹ کے ماہرین کی گہری نظریں ہیں۔ رپورٹوں کے مطابق، وی 4 پرو کی قیمتیں وی 4 فلیش (V4 Flash) کے مقابلے میں 14 گنا زیادہ رکھی گئی ہیں، جس سے ٹیکنالوجی کی صنعت میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ عالمی سطح پر اے آئی ٹیکنالوجی کی قیمتوں میں اضافے کو مختصر مدت کے لیے افراط زر کا باعث قرار دیا جا رہا ہے۔ کمپیوٹنگ پاور کی لیزنگ کی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ اور ماڈل اے پی آئی (API) کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے نے ٹوکن پرائسنگ کے نظام کو بری طرح متاثر کیا ہے، جس کے اثرات اب دنیا بھر کی ٹیکنالوجی مارکیٹ میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیپ سیک کا یہ قدم نہ صرف کمپیوٹنگ کی طلب کو بڑھائے گا بلکہ اس سے اے آئی ماڈلز کی لاگت کے ڈھانچے میں بھی تبدیلی آئے گی۔ 1100 فیصد تک کے اضافے جیسی رپورٹس اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ اے آئی کی صنعت تیزی سے ارتقاء پذیر ہے، جہاں کمپیوٹنگ وسائل کی اہمیت اور قیمت دونوں ہی انتہائی سطح پر پہنچ رہی ہیں۔ چین کے سپر کمپیوٹنگ نیٹ ورک پر اس کی شمولیت یہ ثابت کرتی ہے کہ بیجنگ مصنوعی ذہانت کی دوڑ میں اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری اور وسائل فراہم کر رہا ہے۔ آنے والے مہینوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا یہ قیمتیں مارکیٹ کے لیے پائیدار ثابت ہوتی ہیں یا نہیں۔