LIVE
Loading Breaking News...

ہزارہ صوبہ اور نئے انتظامی یونٹس: عبدالعلیم خان کا اہم بیان

News Image
استحکام پاکستان پارٹی کے سربراہ عبدالعلیم خان نے ہزارہ صوبے کے قیام کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں نئے انتظامی یونٹس بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر عوامی سہولت اور بہتر گورننس کے لیے نئے صوبے قائم کیے جانے چاہئیں۔
اسلام آباد: استحکام پاکستان پارٹی (آئی پی پی) کے سربراہ عبدالعلیم خان نے ہزارہ صوبے کے قیام کے دیرینہ مطالبے کی پرزور حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملکی آبادی میں تیزی سے اضافے کے پیش نظر انتظامی بنیادوں پر نئے صوبوں کا قیام وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہزارہ صوبے کے قیام کا مطالبہ خیبر پختونخوا اسمبلی میں 2010 سے اٹھایا جا رہا ہے اور یہ خوش آئند ہے کہ اب بڑی سیاسی جماعتیں بھی اس مطالبے کی تائید کر رہی ہیں۔ عبدالعلیم خان نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ ان کی جماعت عوام کے مسائل کے حل کے لیے ہزارہ صوبے کے ساتھ ساتھ جنوبی پنجاب اور بہاولپور صوبوں کے قیام کے مطالبے کی بھی مکمل حمایت کرتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نئے صوبوں کا قیام کسی مخصوص سیاسی جماعت یا خطے کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ عوامی سہولت، بہتر حکمرانی اور قومی مفاد کا معاملہ ہے۔ عبدالعلیم خان کے مطابق، موجودہ حالات تقاضا کرتے ہیں کہ ملک میں ایک نئے ورکنگ آرڈر کا نفاذ کیا جائے تاکہ جدید دور کے تقاضوں کے مطابق مسائل کا حل نکالا جا سکے۔ انہوں نے تجویز دی کہ چاروں صوبوں کو مزید انتظامی یونٹس میں تقسیم کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، جس سے نہ صرف انتظامی کارکردگی بہتر ہوگی بلکہ عوام کے دہلیز پر مسائل بھی حل ہو سکیں گے۔ انہوں نے سیاسی رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ اپنی ذاتی سیاسی جاگیروں کو بچانے کے بجائے قومی مفاد کو ترجیح دیں اور تعصب سے بالاتر ہو کر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا کریں۔ واضح رہے کہ حال ہی میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی پاکستان اکنامک سمٹ کے دوران نئے صوبوں کے قیام کی ضرورت پر زور دیا تھا، جس کے بعد سیاسی اور قانونی حلقوں میں بحث کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوا ہے۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے اس تجویز کی حمایت کی ہے جبکہ پاکستان بار کونسل نے اسے آئینی دائرہ کار اور پارلیمانی اتفاق رائے کے تحت کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ عبدالعلیم خان کا کہنا ہے کہ آئی پی پی ہر فورم پر نئے صوبوں کے قیام کی آواز بلند کرتی رہے گی کیونکہ یہ ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے اور عوامی مشکلات میں کمی لانے کا واحد موثر راستہ ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ تمام سیاسی جماعتیں سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ملکی بقا اور خوشحالی کے لیے اس معاملے پر ایک صفحے پر نظر آئیں گی۔