LIVE
Loading Breaking News...

ڈی جے آئی کا نام پینٹاگون کی چینی فوجی لسٹ میں شامل، عدالت کا بڑا فیصلہ

News Image
امریکی عدالت نے چینی ٹیکنالوجی کمپنی ڈی جے آئی کو پینٹاگون کی فوجی فہرست میں برقرار رکھنے کا فیصلہ سنایا ہے۔ اس عدالتی فیصلے سے امریکہ اور چین کے مابین تکنیکی تعلقات میں نئی پیچیدگیاں پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
امریکہ کی ایک عدالت نے ڈرون ٹیکنالوجی بنانے والی عالمی شہرت یافتہ چینی کمپنی 'ڈی جے آئی' (DJI) کی جانب سے دائر کی گئی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے اسے پینٹاگون کی چینی فوجی کمپنیوں کی فہرست میں برقرار رکھنے کا حکم دیا ہے۔ یہ عدالتی فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان ٹیکنالوجی کے شعبے میں مسابقت اور سیکیورٹی خدشات کی بنیاد پر کشیدگی اپنے عروج پر ہے۔ پینٹاگون نے ڈی جے آئی کو مبینہ طور پر چینی فوج کے ساتھ روابط رکھنے کی بنا پر اس فہرست میں شامل کیا تھا، جس کے خلاف کمپنی نے قانونی چارہ جوئی کا راستہ اختیار کیا تھا۔ قانونی ماہرین کا خیال ہے کہ عدالت کا یہ فیصلہ مستقبل میں ان معیارات کو دوبارہ متعین کرے گا جن کی بنیاد پر کسی بھی کمپنی کو فوجی روابط رکھنے والی تنظیم قرار دیا جاتا ہے۔ اس سے قبل ڈی جے آئی کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا تھا کہ وہ ایک نجی کمپنی ہے اور اس کا چینی فوج کی عسکری سرگرمیوں سے کوئی براہ راست تعلق نہیں ہے، تاہم عدالت نے پینٹاگون کے شواہد اور قومی سلامتی کے خدشات کو زیادہ وزن دیا ہے۔ یہ فیصلہ نہ صرف ڈی جے آئی کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے بلکہ دیگر چینی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے بھی ایک انتباہ ہے جو امریکی مارکیٹ میں کام کر رہی ہیں۔ اس عدالتی حکم کے بعد امریکہ اور چین کے مابین ٹیکنالوجی تعلقات مزید متاثر ہونے کا قوی امکان ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ اقدام امریکہ کی جانب سے چینی ٹیکنالوجی پر بڑھتی ہوئی نگرانی اور پابندیوں کا تسلسل ہے، جس کا مقصد حساس ٹیکنالوجی کی چینی فوج تک رسائی کو محدود کرنا ہے۔ ڈی جے آئی دنیا بھر میں کمرشل ڈرون مارکیٹ پر ایک بڑی گرفت رکھتی ہے، لہذا اس پابندی یا فہرست میں شمولیت کے اثرات عالمی سپلائی چین اور ڈرون ٹیکنالوجی کے شعبے میں کام کرنے والی دیگر کمپنیوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ مستقبل میں اس کیس کے نتائج دیگر چینی اداروں کے لیے قانونی پریسیڈنٹ بن سکتے ہیں، کیونکہ امریکہ اب اپنی قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے سخت سے سخت اقدامات اٹھانے پر آمادہ نظر آتا ہے۔ ڈی جے آئی نے تاحال اس فیصلے کے خلاف مزید قانونی اپیلوں کے بارے میں کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا ہے، تاہم مارکیٹ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ چینی کمپنیوں کے لیے امریکی کاروباری ماحول کو مزید مشکل بنا دے گا۔