LIVE
Loading Breaking News...

ماؤتھ پیڈ ٹیکنالوجی: اب زبان سے کمپیوٹر چلانا ہوا ممکن

News Image
آگمینٹل ٹیکنالوجیز نے ایک منفرد ڈیوائس 'ماؤتھ پیڈ' متعارف کرائی ہے جو معذور افراد کو اپنی زبان کے اشاروں سے کمپیوٹر اور دیگر آلات کنٹرول کرنے میں مدد دیتی ہے۔ یہ ایجاد ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک انقلابی قدم ہے جو انسانی جسم کے اعضاء کو ٹیکنالوجی کے ساتھ براہ راست جوڑتی ہے۔
کمپیوٹر ماؤس اور کی بورڈ کی دنیا میں آئے روز نئی تبدیلیاں دیکھنے میں آتی ہیں، لیکن حال ہی میں سان فرانسسکو میں قائم کمپنی 'آگمینٹل ٹیکنالوجیز' نے ایک ایسی حیران کن ڈیوائس متعارف کرائی ہے جس نے ٹیکنالوجی کے ماہرین کو بھی دنگ کر دیا ہے۔ 'ماؤتھ پیڈ' (MouthPad) نامی یہ ڈیوائس کمپیوٹر چلانے کے روایتی طریقوں کو مکمل طور پر تبدیل کر سکتی ہے۔ یہ ڈیوائس خاص طور پر ان افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی ہے جو اپنے ہاتھوں کا استعمال کرنے سے قاصر ہیں یا جنہیں کمپیوٹر کے روایتی ان پٹ ڈیوائسز استعمال کرنے میں دشواری پیش آتی ہے۔ اس ڈیوائس کی سب سے بڑی خوبی اس کا انسانی زبان کے ساتھ مطابقت پیدا کرنا ہے۔ ماؤتھ پیڈ کو صارف اپنے منہ کے اندر، تالو کے ساتھ فٹ کر لیتا ہے، جس کے بعد وہ زبان کی معمولی حرکت اور اشاروں کے ذریعے کمپیوٹر کے کرسر کو حرکت دینے، کلک کرنے اور مختلف کمانڈز پر عمل درآمد کرنے کے قابل ہو جاتا ہے۔ یہ ڈیوائس بلیوٹوتھ کے ذریعے آپ کے لیپ ٹاپ، اسمارٹ فون یا ٹیبلیٹ سے منسلک ہو جاتی ہے، جس کے نتیجے میں صارف کو ہاتھوں کے استعمال کے بغیر ڈیجیٹل دنیا تک رسائی حاصل ہو جاتی ہے۔ یہ ٹیکنالوجی حساس سینسرز پر مبنی ہے جو زبان کی ہلکی سی جنبش کو بھی درست انداز میں پکڑ لیتے ہیں۔ ماؤتھ پیڈ بنانے والی کمپنی کا مقصد انسانی جسم اور کمپیوٹر کے درمیان رابطے کو آسان بنانا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ایجاد اسسٹو ٹیکنالوجی (Assistive Technology) کے شعبے میں ایک سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔ خاص طور پر فالج یا جسمانی معذوری کے شکار افراد کے لیے یہ ڈیوائس ایک نئی امید لے کر آئی ہے، کیونکہ اب وہ اپنے کمپیوٹر پر کام کرنے، انٹرنیٹ سرفنگ کرنے اور گیمز کھیلنے کے لیے کسی دوسرے شخص کے محتاج نہیں رہیں گے۔ اگرچہ یہ ٹیکنالوجی ابھی اپنی ابتدائی شکل میں ہے، لیکن اس کے استعمال کے تجربات انتہائی حوصلہ افزا رہے ہیں۔ کمپنی اس بات پر کام کر رہی ہے کہ اسے مزید آرام دہ بنایا جائے تاکہ طویل وقت تک منہ میں رکھنے سے صارف کو کوئی تکلیف نہ ہو۔ مستقبل قریب میں ماؤتھ پیڈ جیسی ایجادات نہ صرف معذور افراد بلکہ عام صارفین کے لیے بھی ایک جدید 'ہینڈز فری' انٹرفیس کے طور پر ابھر سکتی ہیں، جس سے ٹیکنالوجی کا استعمال زیادہ فطری اور تیز رفتار ہو جائے گا۔