World
مصر کی ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان کے دفاعی معاہدے میں شمولیت کا امکان
ترکیہ کے صدر رجب طیب اردگان نے اشارہ دیا ہے کہ مصر بھی ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان کے مابین دفاعی معاہدے کا حصہ بن سکتا ہے۔ اس معاہدے سے خطے میں مشترکہ دفاع اور سکیورٹی تعاون کو مزید فروغ ملنے کی توقع ہے۔
ترکیہ کے صدر رجب طیب اردگان نے ایک اہم بیان میں کہا ہے کہ مصر بھی مستقبل قریب میں ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان طے پانے والے دفاعی معاہدے میں شامل ہو سکتا ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے کے ان اہم مسلم ممالک کے درمیان دفاعی اور عسکری تعاون کو گہرا کرنے کے حوالے سے بات چیت کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے۔ خبر رساں اداروں کے مطابق ترکیہ ان ممالک کے ساتھ مل کر ایک ایسے مشترکہ دفاعی لائحہ عمل پر غور کر رہا ہے جو خطے میں سکیورٹی کو یقینی بنانے میں مددگار ثابت ہو سکے۔
دوسری جانب پاکستان میں بھی اس دفاعی اتحاد کے حوالے سے اعلیٰ سطح پر مشاورت جاری ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے حال ہی میں صدر آصف علی زرداری کو پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے مابین ہونے والے اس دفاعی معاہدے کے خدوخال اور اہم پیش رفت سے آگاہ کیا ہے۔ اس مجوزہ دفاعی معاہدے کو خطے میں طاقت کے توازن اور مشترکہ دفاعی صلاحیتوں کو بڑھانے کے لیے ایک اہم قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جس میں تینوںممالک کی فوجیں ایک دوسرے کے تجربات اور صلاحیتوں سے استفادہ کریں گی۔
عالمی سطح پر اس ممکنہ اتحاد کے اسٹریٹجک اثرات کا گہرائی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر مصر بھی اس دفاعی معاہدے میں شامل ہو جاتا ہے تو اس سے مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے درمیان دفاعی اور تزویراتی تعلقات میں ایک نیا باب کھلے گا۔ اس سے نہ صرف دہشت گردی کے خلاف جنگ اور علاقائی امن میں مدد ملے گی بلکہ دفاعی پیداوار اور عسکری ٹیکنالوجی کے تبادلے میں بھی وسعت آئے گی۔