LIVE
Loading Breaking News...

خلائی سیٹلائٹ نے 2026 کے تاریخی سورج گرہن کے مناظر قید کر لیے

News Image
یورپی خلائی ایجنسی کے سیٹلائٹ نے 2026 میں پیش آنے والے مکمل سورج گرہن کے دوران زمین پر پڑنے والے سائے کی منفرد تصاویر حاصل کر لی ہیں۔ یہ تاریخی واقعہ یورپ بالخصوص اسپین میں لاکھوں افراد کے لیے ایک یادگار منظر ثابت ہوا۔
سال 2026 میں پیش آنے والے مکمل سورج گرہن نے نہ صرف زمین پر موجود کروڑوں افراد کو حیران کر دیا بلکہ سائنسی دنیا کے لیے بھی اہم اعداد و شمار فراہم کیے۔ یورپی خلائی ایجنسی (ESA) کے سیٹلائٹ نے اس نایاب فلکیاتی واقعے کے دوران زمین کے مختلف خطوں پر پڑنے والے گہرے سائے کی انتہائی واضح اور منفرد تصاویر اور ڈیٹا حاصل کیا ہے۔ یہ مشاہدہ خلا سے سورج گرہن کے اثرات کو سمجھنے میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اسپین سمیت یورپ کے بڑے حصوں میں پیش آنے والے اس مکمل سورج گرہن کو 1999 کے بعد سب سے بڑا اور اہم ترین فلکیاتی واقعہ قرار دیا جا رہا ہے۔ جیسے ہی چاند نے سورج کو مکمل طور پر ڈھانپا، دن کے وقت ایک طویل مدت کے لیے گہرا اندھیرا چھا گیا، جس نے لاکھوں شائقین کو سحر زدہ کر دیا۔ ماہرینِ فلکیات کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ انسانی تاریخ کے ان چند مواقع میں سے ایک ہے جہاں اتنی بڑی آبادی نے ایک ساتھ مکمل گرہن کا مشاہدہ کیا۔ خلائی ایجنسیوں کے مطابق، اس قسم کے مشاہدات ماحول اور زمین کے درجہ حرارت پر سورج گرہن کے اثرات کا مطالعہ کرنے کے لیے انتہائی اہم ہوتے ہیں۔ سیٹلائٹ سے لی گئی تصاویر میں زمین پر پڑنے والا چاند کا سایہ واضح طور پر دکھائی دے رہا ہے، جس سے محققین کو گرہن کے دوران زمین کے اوپری کرہ ہوائی میں ہونے والی تبدیلیوں کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔ یہ ڈیٹا مستقبل میں سورج اور زمین کے درمیان برقی مقناطیسی تعلقات کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ دنیا بھر کے میڈیا نے بھی اس منظر کو اپنی کوریج میں نمایاں جگہ دی اور اسے ایک نسل میں ایک بار پیش آنے والا واقعہ قرار دیا۔ اسپین کے ساحلوں سے لے کر یورپ کے شمالی ممالک تک، عوام نے حفاظتی چشموں کے ذریعے اس تاریخی لمحے کا نظارہ کیا۔ یورپی خلائی ایجنسی اب ان تصاویر اور حاصل شدہ سائنسی معلومات کا تجزیہ کر رہی ہے تاکہ آنے والے وقتوں میں سورج گرہن سے متعلق مزید پیچیدہ فلکیاتی سوالات کے جوابات تلاش کیے جا سکیں۔