LIVE
Loading Breaking News...

کرسٹن اسٹیورٹ کا بڑا انکشاف: ٹویو لائٹ میں ایڈورڈ یا جیکب، اداکارہ نے کس کا انتخاب کیا؟

News Image
مشہور فلمی سیریز ٹویو لائٹ کی مرکزی اداکارہ کرسٹن اسٹیورٹ نے دہائیوں پر محیط اس بحث کا فیصلہ سنا دیا ہے کہ وہ ایڈورڈ اور جیکب میں سے کس کے حق میں ہیں۔ اداکارہ کے اس انکشاف نے سوشل میڈیا پر مداحوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
ہالی وڈ کی بلاک بسٹر فلم سیریز 'ٹویو لائٹ' (Twilight) نے اپنے وقت میں دنیا بھر کے نوجوانوں کو دو حصوں میں تقسیم کر رکھا تھا، جہاں شائقین کی ایک بڑی تعداد خود کو 'ٹیم ایڈورڈ' یا 'ٹیم جیکب' کا حصہ سمجھتی تھی۔ برسوں تک جاری رہنے والی اس بحث کا مرکزی نقطہ یہ تھا کہ آخر فلم کی ہیروئن بیلا سوان، جسے کرسٹن اسٹیورٹ نے نبھایا تھا، اپنے حقیقی جیون ساتھی کے طور پر کس کا انتخاب کرتی ہے۔ اب ایک طویل عرصے کے بعد خود کرسٹن اسٹیورٹ نے اس مشہور سوال کا جواب دے دیا ہے جس کا مداحوں کو شدت سے انتظار تھا۔ ایک حالیہ انٹرویو کے دوران جب کرسٹن اسٹیورٹ سے پوچھا گیا کہ وہ ٹویو لائٹ کی تاریخ کے سب سے بڑے سوال یعنی 'ٹیم ایڈورڈ یا ٹیم جیکب' میں سے کس کا انتخاب کریں گی، تو انہوں نے کافی سوچ بچار کے بعد ایڈورڈ کولن کے حق میں فیصلہ دیا۔ اداکارہ کا ماننا ہے کہ ایڈورڈ اور بیلا کا رشتہ کہانی کے تناظر میں زیادہ گہرا اور پیچیدہ تھا، جس نے انہیں اس انتخاب پر مجبور کیا۔ کرسٹن کا کہنا تھا کہ اگرچہ جیکب کے کردار میں بھی کئی کشش موجود تھی، لیکن ایڈورڈ کی شخصیت اور کہانی کا تسلسل اسے ایک منفرد مقام پر رکھتا ہے۔ کرسٹن اسٹیورٹ کے اس اعتراف کے بعد سوشل میڈیا پر ایک مرتبہ پھر ٹویو لائٹ کے دیوانوں نے ردعمل دینا شروع کر دیا ہے۔ ٹوئٹر اور انسٹاگرام پر مداح اپنے اپنے پسندیدہ کرداروں کے حق میں دلائل دے رہے ہیں، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ سیریز آج بھی اتنی ہی مقبول ہے جتنی اپنی ریلیز کے وقت تھی۔ کرسٹن کے اس بیان نے ان تمام قیاس آرائیوں کو ختم کر دیا ہے جو فلم کی ریلیز کے بعد سے اب تک گردش کر رہی تھیں۔ واضح رہے کہ اسٹیفنی میئر کے ناولوں پر مبنی یہ فلم سیریز دنیا بھر میں اربوں ڈالر کا بزنس کر چکی ہے اور کرسٹن اسٹیورٹ کے ساتھ ساتھ رابرٹ پیٹنسن اور ٹیلر لاٹنر کو عالمی شہرت دلانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اگرچہ یہ سیریز کئی سال پہلے ختم ہو چکی ہے، لیکن اس کے کرداروں کے گرد بننے والی کہانیاں اور مداحوں کی جذباتی وابستگی آج بھی برقرار ہے۔ کرسٹن اسٹیورٹ کا یہ جواب بلاشبہ ان کے مداحوں کے لیے ایک یادگار لمحہ ہے جو ایک طویل عرصے سے ان کے موقف کو جاننے کے متلاشی تھے۔