World
سوڈانی بحران: عبدالفتاح البرہان کا قومی مذاکرات اور مستقبل کے لائحہ عمل پر اہم بیان
سوڈانی خودمختار کونسل کے سربراہ جنرل عبدالفتاح البرہان نے قومی مذاکرات میں شرکت کرنے والے افراد کو عارضی قانونی تحفظ اور استثنیٰ دینے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ملک میں جاری بحران کے حل کے لیے کسی بھی ایسے عمل کی گنجائش نہیں جس میں حمیدتی کی واپسی ممکن ہو۔
سوڈانی خودمختار کونسل کے سربراہ جنرل عبدالفتاح البرہان نے ملک میں جاری سیاسی و عسکری بحران کے حل کے لیے ایک اہم پیشرفت کرتے ہوئے قومی مذاکرات کے شرکاء کو عارضی استثنیٰ اور قانونی تحفظ فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ یہ اقدام سوڈان میں قیام امن کی کوششوں کے سلسلے میں انتہائی اہمیت کا حامل سمجھا جا رہا ہے، جس کا مقصد تمام سیاسی دھڑوں اور متعلقہ فریقین کو ایک میز پر لا کر مستقبل کا لائحہ عمل طے کرنا ہے۔ جنرل البرہان کے مطابق، اس استثنیٰ کا بنیادی مقصد مذاکراتی عمل کے دوران شرکاء کو کسی بھی قسم کے خوف یا انتقامی کارروائی سے محفوظ رکھنا ہے تاکہ وہ آزادانہ طور پر ملکی تعمیر نو میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔
دوسری جانب جنرل البرہان نے سوڈان کی صورتحال کے حوالے سے اپنا موقف مزید سخت کرتے ہوئے محمد ہمدان دقلو، جنہیں 'حمیدتی' کے نام سے جانا جاتا ہے، کی سیاسی یا عسکری میدان میں واپسی کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ سوڈان کے مستقبل میں ایسے عناصر کے لیے کوئی جگہ نہیں جنہوں نے ملک کو تباہی کے دہانے پر پہنچایا اور داخلی انتشار کا باعث بنے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی برادری سوڈان میں جنگ بندی اور انسانی بحران کے خاتمے کے لیے دباؤ ڈال رہی ہے، تاہم حکومتی سطح پر عسکری قیادت کا عزم ہے کہ وہ موجودہ حالات میں کسی بھی قسم کا سمجھوتہ نہیں کریں گے۔
سوڈانی عوام اور سیاسی تجزیہ کار اس پیشرفت کو ایک مخلوط ردعمل کے ساتھ دیکھ رہے ہیں۔ جہاں ایک طرف قومی مذاکرات کے لیے قانونی تحفظ کو ایک خوش آئند قدم قرار دیا جا رہا ہے، وہیں حمیدتی کی واپسی پر پابندی کے اعلان سے یہ واضح ہوتا ہے کہ حکومت ملک کے اندرونی معاملات پر اپنی گرفت مضبوط رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔ فی الحال، سوڈان کے مختلف شہروں میں جاری تناؤ اور انسانی امداد کی فراہمی میں حائل رکاوٹیں حکومت کے لیے بڑے چیلنجز ہیں۔ جنرل البرہان کی یہ نئی حکمت عملی آئندہ آنے والے دنوں میں سوڈان کی داخلی سیاست اور عسکری محاذ پر کیا اثرات مرتب کرتی ہے، یہ دیکھنا باقی ہے۔