World
مغربی کنارے میں فلسطینی خاندانوں کا محاصرہ: انسانی حقوق کی سنگین صورتحال
مقبوضہ مغربی کنارے میں تین فلسطینی خاندان گزشتہ ایک ہفتے سے اپنے ہی گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔ آباد کاروں کی جانب سے جاری جارحیت اور محاصرے کے باعث ان خاندانوں کی زندگی شدید خطرے میں ہے۔
مقبوضہ مغربی کنارے سے موصولہ اطلاعات کے مطابق، اسرائیلی آباد کاروں کی جانب سے جاری جارحیت کے نتیجے میں تین فلسطینی خاندان گزشتہ ایک ہفتے سے اپنے ہی گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔ علاقائی ذرائع کا کہنا ہے کہ آباد کاروں نے ان خاندانوں کے گھروں کو چاروں طرف سے گھیر رکھا ہے، جس کی وجہ سے نہ صرف ان کا باہر نکلنا ناممکن ہو گیا ہے بلکہ خوراک، پانی اور ادویات جیسی بنیادی ضروریات تک رسائی بھی منقطع ہو چکی ہے۔
محصور خاندانوں کے افراد نے مقامی میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے فریاد کی ہے کہ آباد کاروں کا یہ رویہ ان کی زندگیوں کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکا ہے۔ مقامی باشندوں کے مطابق، آباد کاروں کی مسلح موجودگی اور گھروں کے باہر مسلسل اشتعال انگیزی کے باعث خوف و ہراس کی فضا قائم ہے۔ یہ خاندان کسی بھی قسم کی ہنگامی صورتحال میں گھر سے باہر نکلنے سے قاصر ہیں، کیونکہ انہیں شدید تشدد اور حملوں کا ڈر ہے۔
بین الاقوامی انسانی حقوق کے اداروں نے اس واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مغربی کنارے میں آباد کاروں کی جانب سے فلسطینیوں کو نشانہ بنانے کے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوا ہے، جس کا مقصد فلسطینی آبادی کو ان کی زمینوں سے بے دخل کرنا اور علاقے میں خوف کی فضا پیدا کرنا ہے۔ مقامی حکام نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر مداخلت کرے اور ان خاندانوں کو اس محاصرے سے نجات دلانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔
واضح رہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں صورتحال آئے روز کشیدہ ہوتی جا رہی ہے۔ جہاں ایک طرف اسرائیلی حکام اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں، وہیں شدت پسند آباد کاروں کے گروپ بھی کھلے عام فلسطینیوں کو دھمکیاں دیتے اور ان کے گھروں و فصلوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ ان خاندانوں کی حالتِ زار اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ مقبوضہ علاقوں میں عام شہریوں کی زندگی کتنی غیر محفوظ ہو چکی ہے اور کس طرح انہیں روزمرہ کے بنیادی انسانی حقوق سے محروم کیا جا رہا ہے۔