LIVE
Loading Breaking News...

سپریم کورٹ کا فیصلہ: طلاق لینے پر قتل ہونے والی خاتون کے کیس میں مجرم کی سزا برقرار

News Image
سپریم کورٹ نے طلاق کے بعد سابقہ بیوی کو قتل کرنے والے مجرم کی سزائے موت برقرار رکھتے ہوئے اہم فیصلہ سنایا ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ قانونی حقوق حاصل کرنے والی خواتین پر تشدد کرنے والوں کے خلاف قانون کا پورا زور استعمال ہونا چاہیے۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ وہ خواتین جو اپنے قانونی حقوق کا استعمال کرتی ہیں، انہیں تشدد کا نشانہ بنانے والوں کو ہرگز معاف نہیں کیا جا سکتا۔ جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے طلاق کے حصول کے صرف 48 گھنٹے بعد اپنی سابقہ بیوی کو بے دردی سے قتل کرنے والے مجرم وسیم عباس کی اپیل کو مسترد کر دیا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ مقتولہ شہناز بی بی نے مسلم فیملی لاز آرڈیننس 1961 اور ڈیزولوشن آف مسلم میرجز ایکٹ 1939 کے تحت اپنا قانونی حق استعمال کیا تھا، اور اس فعل پر اسے موت کے گھاٹ اتار دینا قانون کی سنگین توہین ہے۔ عدالتی فیصلے کے مطابق، یہ واقعہ 11 اکتوبر 2020 کو پیش آیا جب مجرم نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ مقتولہ کے گھر میں زبردستی داخل ہو کر اسے چھ گولیاں مار کر قتل کر دیا۔ عدالت نے واقعے کے چشم دید گواہوں کے بیانات اور فرانزک شواہد کو انتہائی قابل اعتماد قرار دیا۔ جسٹس کاکڑ نے اپنے تحریری فیصلے میں زور دیا کہ یہ قتل ایک سوچی سمجھی سازش اور وحشیانہ اقدام تھا، جس کا مقصد خاتون کو اپنے حق کے حصول پر سزا دینا تھا۔ عدالت نے قرار دیا کہ آئین کے آرٹیکل 9، 14 اور 25 کے تحت ہر شہری، بالخصوص خواتین کے جان و مال اور وقار کا تحفظ ریاست اور عدلیہ کی اولین ذمہ داری ہے۔ سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ کی جانب سے مجرم کو دی گئی سزائے موت اور جرمانے کے فیصلے کو برقرار رکھا۔ عدالت نے کہا کہ اس کیس میں کسی قسم کی نرمی کی کوئی گنجائش نہیں ہے، کیونکہ یہ ایک ظالمانہ فعل تھا جو گھر کے تقدس کو پامال کرتے ہوئے کیا گیا۔ بینچ نے کہا کہ عدالتی عمل کے ذریعے طلاق حاصل کرنا ایک بنیادی قانونی حق ہے، اور اگر اس حق کے استعمال پر کسی خاتون کو نشانہ بنایا جائے تو یہ پورے عدالتی نظام پر حملہ تصور ہوگا۔ آخر میں، عدالت نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ایسی کارروائیاں جو خواتین کو ان کے حقوق سے محروم کرنے کے لیے تشدد کا راستہ اختیار کرتی ہیں، انہیں صرف سخت ترین سزاؤں کے ذریعے ہی روکا جا سکتا ہے۔ یہ فیصلہ ملک میں خواتین کے خلاف ہونے والے تشدد کے مقدمات میں ایک قانونی نظیر کی حیثیت رکھتا ہے، جو اس عزم کا اعادہ کرتا ہے کہ ریاست قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانے اور مظلوموں کو انصاف فراہم کرنے کے لیے کسی بھی سطح پر سمجھوتہ نہیں کرے گی۔