LIVE
Loading Breaking News...

چو رونگ جی کا انتقال اور چین کے معاشی اصلاحاتی دور کا اختتام

News Image
چین کے سابق وزیر اعظم چو رونگ جی کا انتقال ایک ایسے دور کا باضابطہ اختتام سمجھا جا رہا ہے جس نے چین کو عالمی معاشی قوت بنایا تھا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ بیجنگ کی موجودہ سیاسی و معاشی ترجیحات میں نمایاں تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے۔
چین کے سابق وزیر اعظم چو رونگ جی کا تذکرہ اکثر ایک ایسے دور کے معمار کے طور پر کیا جاتا ہے جب چین نے اپنی معیشت کو عالمی منڈیوں کے لیے کھولا تھا۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ حالیہ عرصہ میں ان کی شخصیت اور نظریات کا پس منظر میں چلے جانا چین کے 'تیز رفتار اصلاحاتی دور' کے خاتمے کی ایک بڑی علامت ہے۔ چو رونگ جی نے نوے کی دہائی میں جس طرح ریاستی ملکیتی اداروں کی تنظیم نو کی اور عالمی تجارتی تنظیم میں شمولیت کے لیے راہ ہموار کی، وہ آج بھی چینی معیشت کی ترقی کی بنیاد سمجھے جاتے ہیں۔ دوسری جانب، چینی کمیونسٹ پارٹی کی جانب سے جیانگ زیمن کی صد سالہ تقریبات اور قیادت میں ہونے والی تبدیلیاں یہ واضح کرتی ہیں کہ بیجنگ اب ایک نئے دور میں داخل ہو چکا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ چو رونگ جی اور ان کے ساتھیوں کے دور میں جو آزادانہ معاشی پالیسیاں اپنائی گئی تھیں، اب ان کی جگہ زیادہ سخت سرکاری کنٹرول اور مرکزی پالیسی سازی نے لے لی ہے۔ یہ تبدیلی صرف معاشی نہیں بلکہ سیاسی نوعیت کی بھی ہے، جہاں پارٹی کا اثر و رسوخ ہر شعبے میں بڑھایا جا رہا ہے۔ چو رونگ جی کی میراث کا ذکر کرتے ہوئے تجزیہ کار یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا چین اب دوبارہ اپنی پرانی اصلاحاتی راہ پر لوٹے گا یا موجودہ مرکزی کنٹرول کی پالیسی طویل مدتی حکمت عملی بنی رہے گی۔ اگرچہ چین نے اپنی ٹیکنالوجی اور دفاعی شعبوں میں غیر معمولی ترقی کی ہے، تاہم معاشی ترقی کی رفتار میں کمی اور آبادیاتی چیلنجز نے نئی قیادت کے لیے مشکلات پیدا کر دی ہیں۔ ان چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے اب بیجنگ کو ماضی کے اصلاح پسند ماڈل اور موجودہ سیاسی ضروریات کے درمیان توازن قائم کرنا ہوگا۔ مجموعی طور پر، چو رونگ جی کا عہد اب صرف تاریخ کا حصہ بن چکا ہے۔ آنے والے سالوں میں چین اپنی معاشی شناخت کو کس طرح برقرار رکھتا ہے، یہ دیکھنا باقی ہے۔ دنیا بھر کے سرمایہ کار اور ماہرین معاشیات اس بات پر نظر رکھے ہوئے ہیں کہ کیا چین کی موجودہ حکومت ماضی کے ان اصلاحات کے اثرات کو برقرار رکھے گی جنہوں نے کروڑوں لوگوں کو غربت سے نکالنے میں مدد فراہم کی تھی۔ یہ ایک دور کا باضابطہ اختتام ہے جو چینی تاریخ میں ہمیشہ ایک اہم سنگ میل کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔