LIVE
Loading Breaking News...

جدید ڈیجیٹل دنیا اور انسانوں کے مابین رابطوں کا بحران

News Image
موجودہ دور کی ٹیکنالوجی اور سماجی رویوں نے انسان کو ایک ایسی عجیب کیفیت میں مبتلا کر دیا ہے جہاں گفتگو کا معیار ختم ہو چکا ہے۔ ٹیکنالوجی کی اندھی تقلید اور ڈیجیٹل دور کے منفی اثرات نے انسانی رابطوں کو کھوکھلا بنا دیا ہے۔
موجودہ دور کی تیز رفتار ٹیکنالوجی نے انسانی زندگی کو بظاہر تو بہت قریب کر دیا ہے، لیکن درحقیقت ہم ایک ایسی دنیا کی طرف بڑھ رہے ہیں جہاں مکالمے کی روح ختم ہو چکی ہے۔ حالیہ مشاہدات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ہم نے ایک ایسی دنیا تیار کر لی ہے جہاں کہنے کے لیے کچھ نہیں بچا اور سننے والے کے پاس سننے کے لیے کان نہیں۔ یہ صورتحال ڈیجیٹل دنیا کے ان مسائل کی عکاسی کرتی ہے جہاں انسان اب سکرینوں کے پیچھے چھپ کر اپنی حقیقت کھو چکا ہے۔ کھیلوں کی دنیا سے لے کر معاشی سرگرمیوں تک، ہر چیز اب صرف منافع اور اعداد و شمار کے گرد گھومتی ہے، جس سے انسانی ہمدردی اور حقیقی تعلقات کا فقدان پیدا ہو رہا ہے۔ اس تبدیلی کے پیچھے ان جدید گیمبلنگ ایپس اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کا بڑا ہاتھ ہے جو صارفین کے جذبات کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ جب کوئی شخص اپنی سال بھر کی کمائی ان ایپس پر ہار جاتا ہے تو یہی ایپس اسے مزید ترغیب دیتی ہیں، مگر جیسے ہی کوئی بڑی جیت حاصل ہوتی ہے، سسٹم اسے خودکار طور پر بلاک کر دیتا ہے۔ یہ بے حسی صرف مالیاتی لین دین تک محدود نہیں بلکہ اس نے ہمارے معاشرتی رویوں کو بھی زہر آلود کر دیا ہے۔ ہم نے اپنی توجہ ایسی مصنوعی چیزوں پر مرکوز کر لی ہے جن کی کوئی ٹھوس بنیاد نہیں، اور یہی وجہ ہے کہ اب معاشرے میں گفتگو کا معیار تیزی سے گر رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ انسانوں کے مابین بڑھتی ہوئی دوری کی وجہ وہ تکنیکی جال ہے جو ہمیں مسلسل مصروف تو رکھتا ہے لیکن ذہنی سکون سے محروم کر دیتا ہے۔ کہانیوں کا وہ دور ختم ہو گیا جہاں لوگ بیٹھ کر ایک دوسرے کے تجربات سنتے تھے، اب صرف خبروں کی سرخیوں اور شارٹ ویڈیوز کا دور ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم ایسی دنیا میں رہ رہے ہیں جہاں ہر کوئی بول تو رہا ہے مگر کسی کی بات اثر نہیں رکھتی۔ اس بے حسی کو ختم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم ٹیکنالوجی کے غیر ضروری استعمال کو ترک کریں اور ایک بار پھر انسانی رابطوں کو اپنی ترجیحات میں شامل کریں۔ آخر کار، یہ سوال اٹھنا ضروری ہے کہ کیا ہم اس تکنیکی ترقی کے حقدار ہیں جو ہمیں ایک دوسرے سے بیگانہ کر رہی ہے؟ جب تک ہم اپنی ترجیحات کو درست نہیں کریں گے، ہم اسی طرح ایک بے حس دنیا کا حصہ بنے رہیں گے۔ سماجی میڈیا کی چمک دمک کے پیچھے چھپا ہوا یہ تاریک پہلو مستقبل میں مزید سنگین نتائج پیدا کر سکتا ہے، جس کے لیے اب ہمیں ہوش کے ناخن لینے ہوں گے۔