LIVE
Loading Breaking News...

کیا مصنوعی ذہانت پیسے کی ضرورت ختم کر دے گی؟ مائیکل سیلر کا جواب

News Image
مائیکل سیلر کا ماننا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے باوجود دنیا میں پیسے کی اہمیت ختم نہیں ہوگی کیونکہ انسان ہمیشہ سماجی حیثیت کے حامل نایاب اثاثوں کے حصول میں دلچسپی رکھے گا۔ انہوں نے ایلون مسک کے اس دعوے کو مسترد کر دیا جس میں کہا گیا تھا کہ اے آئی کے مستقبل میں رقم بے معنی ہو جائے گی۔
مشہور امریکی سرمایہ کار اور مائیکرو اسٹریٹجی کے بانی مائیکل سیلر نے ٹیکنالوجی کے بڑے نام ایلون مسک کے اس دعوے سے اختلاف کیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت (AI) کے پھیلاؤ کے بعد پیسے کی اہمیت ختم ہو جائے گی۔ سیلر کا کہنا ہے کہ اگرچہ مصنوعی ذہانت انسانی زندگی کی بنیادی ضروریات کو انتہائی سستا یا مکمل طور پر مفت بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے، لیکن یہ پیسے کے تصور کو مکمل طور پر ختم نہیں کر سکتی۔ ان کا استدلال ہے کہ انسانی فطرت ہمیشہ مقابلہ بازی پر مبنی رہی ہے اور لوگ ہمیشہ ان اشیاء کے حصول کے لیے کوشاں رہتے ہیں جو ان کی سماجی حیثیت کو بلند کرتی ہیں۔ مائیکل سیلر نے اس بات پر زور دیا کہ انسان بنیادی طور پر 'سٹیٹس اورینٹڈ' (حیثیت پسند) مخلوق ہے۔ حتیٰ کہ اگر خوراک، رہائش اور دیگر بنیادی سہولیات وافر مقدار میں بھی دستیاب ہوں، تب بھی لوگ ان نایاب اشیاء اور اثاثوں کی تلاش جاری رکھیں گے جنہیں ہر کوئی حاصل نہیں کر سکتا۔ ان کے مطابق، یہ نایاب اشیاء ہی دراصل انسانی معاشرے میں طاقت اور حیثیت کا تعین کرتی ہیں، اور انہیں حاصل کرنے کا واحد ذریعہ مالی وسائل ہی رہیں گے۔ لہذا، پیسہ محض اشیاء کے تبادلے کا ذریعہ نہیں، بلکہ یہ ایک ایسا پیمانہ ہے جو انسانی معاشرے کی درجہ بندی میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ ایلون مسک نے ماضی میں یہ خدشہ یا امید ظاہر کی تھی کہ مصنوعی ذہانت کی ترقی ایک ایسی 'کثرت کی معیشت' (Economy of Abundance) تشکیل دے گی جہاں وسائل کی فراوانی کے باعث رقم کی اہمیت ختم ہو جائے گی۔ تاہم مائیکل سیلر کا تجزیہ اس سے یکسر مختلف ہے۔ سیلر کے نزدیک، ٹیکنالوجی کا کام صرف انسانی محنت کی بچت کرنا ہے، نہ کہ انسانی خواہشات کے فرق کو مٹانا۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب انسانی ضروریات پوری ہو جاتی ہیں تو انسانی مقابلہ بازی دیگر پرتعیش اور نایاب چیزوں کی طرف منتقل ہو جاتی ہے، جس کے لیے معاشی نظام کا ہونا ناگزیر ہے۔ مجموعی طور پر، مائیکل سیلر کا یہ مؤقف کاروباری حلقوں اور ٹیکنالوجی کے ماہرین کے درمیان بحث کا نیا مرکز بن گیا ہے۔ جہاں ایک طرف مصنوعی ذہانت کو انسانی ارتقاء کا اگلا بڑا قدم سمجھا جا رہا ہے، وہیں یہ بحث بھی جاری ہے کہ آیا ٹیکنالوجی واقعی انسان کی بنیادی نفسیات اور معاشی اصولوں کو بدلنے کی طاقت رکھتی ہے یا نہیں۔ فی الحال، سیلر کا ماننا یہی ہے کہ مصنوعی ذہانت زندگی کو آسان تو بنا سکتی ہے لیکن اسے 'پیسے سے پاک' نہیں بنا سکتی، کیونکہ سماجی درجہ بندی کی خواہش انسانی معاشرے کی بنیاد ہے۔