LIVE
Loading Breaking News...

کالشی پر پابندی: الیکشن اور اسپورٹس مارکیٹ بند کرنے کا حکم

News Image
امریکی حکام نے کالشی کمپنی کو الیکشن اور اسپورٹس سمیت کئی اہم مارکیٹس تک رسائی روکنے کا حکم دے دیا ہے۔ یہ پیش رفت مشہور یوٹیوبر کافی زیلا کی جانب سے ان پلیٹ فارمز کو جوئے کے مترادف قرار دینے کے بعد سامنے آئی ہے۔
امریکی حکام نے ٹریڈنگ پلیٹ فارم 'کالشی' (Kalshi) کو فوری طور پر واشنگٹن میں اپنی اہم مارکیٹس تک رسائی محدود کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔ ان مارکیٹس میں کھیل، انتخابات، سیاست اور دیگر حساس موضوعات شامل ہیں۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ریگولیٹری ادارے اس قسم کے نئے اور پیچیدہ مالیاتی پلیٹ فارمز کی نگرانی سخت کر رہے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان مارکیٹس کا دائرہ کار قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے کام کرنے کے اصولوں سے متصادم ہو سکتا ہے، جس کے پیش نظر یہ سخت قدم اٹھایا گیا ہے۔ دوسری جانب، مشہور یوٹیوبر اور تفتیشی رپورٹر کافی زیلا (Coffeezilla) نے کالشی جیسے پلیٹ فارمز پر سخت تنقید کرتے ہوئے انہیں 'پردہ پوشی میں کیا جانے والا جوا' قرار دیا ہے۔ کافی زیلا کا ماننا ہے کہ الیکشن اور کھیلوں کے نتائج پر سٹے بازی یا ٹریڈنگ کے نام پر جو کچھ ہو رہا ہے، وہ دراصل عام لوگوں کو نقصان پہنچانے کا ایک طریقہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ مارکیٹس سرمایہ کاری کے بجائے قیاس آرائیوں اور جوئے کو فروغ دے رہی ہیں، جس سے معاشرتی اور اخلاقی مسائل جنم لے سکتے ہیں۔ اس معاملے کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جے پی مورگن (JPMorgan) نے مبینہ طور پر اس پلیٹ فارم کے ساتھ اپنے بنیادی بینکنگ تعلقات ختم کر دیے ہیں۔ بینکنگ سیکٹر کی جانب سے اس طرح کی دوری، کالشی کے کاروباری ماڈل پر سوالات کھڑے کرتی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر ان مارکیٹس پر مزید سخت پابندیاں لگائی گئیں، تو مستقبل میں اس قسم کے پلیٹ فارمز کا چلنا ناممکن ہو جائے گا۔ تاہم، کالشی کی انتظامیہ نے اپنے دفاع میں کہا ہے کہ وہ قانون کے مطابق کام کرنے کے لیے پرعزم ہیں اور ریگولیٹرز کے ساتھ مکمل تعاون کر رہے ہیں۔ فی الحال، صارفین کو ان مخصوص مارکیٹس میں لین دین سے روک دیا گیا ہے جبکہ ریگولیٹری ادارے اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا یہ پلیٹ فارم دیگر قانونی حدود کی خلاف ورزی تو نہیں کر رہا۔ مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ واقعہ آن لائن بیٹنگ اور سٹاک مارکیٹ کے ملاپ پر مبنی پلیٹ فارمز کے لیے ایک انتباہ ہے کہ انہیں اب انتہائی سخت جانچ پڑتال کا سامنا کرنا پڑے گا۔ آنے والے دنوں میں اس تنازع کے مزید قانونی پہلو سامنے آنے کی توقع ہے۔