Technology
انشورنس انڈسٹری میں مصنوعی ذہانت کا ضابطہ اخلاق
انشورنس ریگولیٹرز اب مصنوعی ذہانت کے استعمال کو باقاعدہ جانچ پڑتال کے عمل میں شامل کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ نیشنل ایسوسی ایشن آف انشورنس کمشنرز نے اے آئی رسک گورننس کے حوالے سے نئے فریم ورک پر کام شروع کر دیا ہے۔
انشورنس کے شعبے میں ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے اثرات کے پیش نظر، انشورنس ریگولیٹرز اب مصنوعی ذہانت (AI) کی حکمرانی کو محض پالیسی دستاویزات تک محدود رکھنے کے بجائے اسے عملی جانچ پڑتال کے عمل میں شامل کرنے جا رہے ہیں۔ حال ہی میں نیشنل ایسوسی ایشن آف انشورنس کمشنرز (NAIC) کے موسم گرما کے قومی اجلاس کے دوران، مصنوعی ذہانت سے منسلک خطرات کے انتظام کے حوالے سے ایک تفصیلی اپ ڈیٹ فراہم کی گئی۔ یہ اقدام اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ریگولیٹرز اب انشورنس کمپنیوں کی جانب سے ٹیکنالوجی کے استعمال پر پہلے سے کہیں زیادہ سخت نگرانی کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
نئے جاری کردہ ضوابط اور جانچ پڑتال کے طریقہ کار کا بنیادی مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ انشورنس کمپنیاں مصنوعی ذہانت کے الگورتھمز کو استعمال کرتے وقت شفافیت اور اخلاقی اصولوں کی پاسداری کریں۔ اس حوالے سے ریگولیٹرز کا ماننا ہے کہ اے آئی ماڈلز اگر درست طریقے سے نگرانی نہ کیے جائیں تو انشورنس پریمیم کے تعین اور کلیمز کی ادائیگی کے فیصلوں میں تعصب یا غلطیوں کا باعث بن سکتے ہیں۔ لہذا، اب انشورنس کمپنیوں کو اپنے اے آئی ٹولز کے کام کرنے کے انداز اور ان سے وابستہ خطرات کی تفصیلات ریگولیٹری اداروں کے پاس جمع کروانی ہوں گی۔
اس نئے فریم ورک میں ڈیٹا کی رازداری، سکیورٹی اور الگورتھم کی درستگی پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق، انشورنس انڈسٹری میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال نے جہاں کام کو تیز کیا ہے، وہیں صارفین کے ڈیٹا کے تحفظ کے حوالے سے خدشات میں بھی اضافہ کیا ہے۔ ریگولیٹرز کا کہنا ہے کہ آنے والے وقتوں میں انشورنس کمپنیوں کی جانچ کے دوران مصنوعی ذہانت کے آڈٹ کو ایک لازمی حصہ بنایا جائے گا تاکہ انشورنس کی مارکیٹ میں صارفین کا اعتماد بحال رہ سکے۔
مستقبل کے حوالے سے یہ تبدیلیاں واضح کرتی ہیں کہ ٹیکنالوجی اور ریگولیشن کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ انشورنس ادارے اب اس بات کے پابند ہوں گے کہ وہ اپنی ڈیجیٹل تبدیلی کے دوران ریگولیٹری معیار پر پورا اتریں۔ یہ اقدام نہ صرف مالیاتی شعبے میں ٹیکنالوجی کے ذمہ دارانہ استعمال کو فروغ دے گا بلکہ ممکنہ قانونی اور اخلاقی مسائل سے بچنے میں بھی مدد فراہم کرے گا۔ نیشنل ایسوسی ایشن آف انشورنس کمشنرز کے اس فیصلے کو عالمی سطح پر انشورنس سیکٹر کے لیے ایک اہم پیشرفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔