Technology
ایکس اے آئی کے خلاف اے آئی مواد پر مبنی نیا قانونی مقدمہ
پوٹس لاء فرم نے گروک اے آئی بنانے والی کمپنی ایکس اے آئی کے خلاف نابالغوں سے متعلق قابل اعتراض مواد تیار کرنے کے الزام میں چوتھا مقدمہ دائر کیا ہے۔ اس مقدمے کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں پہلی بار ایک لڑکے کو متاثرہ فریق کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔
امریکی ریاست آرکنساس سے تعلق رکھنے والی معروف قانونی فرم 'پوٹس لاء فرم' نے ایک بار پھر آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی معروف کمپنی 'ایکس اے آئی' (xAI) کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ یہ کمپنی اپنے مشہور چیٹ بوٹ 'گروک' (Grok) کے لیے جانی جاتی ہے۔ یہ اس نوعیت کا چوتھا سول مقدمہ ہے جو پوٹس لاء فرم نے ایک خاندان کی نمائندگی کرتے ہوئے دائر کیا ہے، جس میں کمپنی پر نابالغوں سے متعلق جنسی نوعیت کا مواد تیار کرنے اور اسے پھیلانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ اس حالیہ قانونی پیش رفت نے اے آئی انڈسٹری میں حفاظتی اقدامات پر شدید سوالات اٹھا دیے ہیں۔
اس مقدمے کی ایک اہم اور منفرد بات یہ ہے کہ یہ پہلی مرتبہ کسی لڑکے کے متاثرہ ہونے سے متعلق ہے۔ اس سے قبل دائر کیے گئے تین مقدمات میں متاثرہ افراد لڑکیاں تھیں، لیکن اب قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مسئلے کا دائرہ کار وسیع تر ہوتا جا رہا ہے اور کسی بھی صنف کے بچے اے آئی ٹیکنالوجی کے غلط استعمال کا شکار ہو سکتے ہیں۔ فرم کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ٹیکنالوجی کمپنیاں اپنے اے آئی ماڈلز کو تربیت دیتے وقت بچوں کی حفاظت کو یقینی بنانے میں ناکام رہی ہیں، جس کے نتیجے میں مصنوعی ذہانت کا استعمال ایسے گھنونی مواد کی تخلیق کے لیے کیا جا رہا ہے۔
مقدمے کے متن کے مطابق، 'گروک' اے آئی سسٹم کو ایسے حفاظتی فلٹرز سے لیس نہیں کیا گیا جو نابالغوں سے متعلق غیر اخلاقی اور مجرمانہ مواد کی تیاری کو روک سکیں۔ قانونی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر عدالت نے اس مقدمے میں مدعی کے حق میں فیصلہ دیا تو یہ دنیا بھر کی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے ایک بڑی تنبیہ ثابت ہوگا۔ اس سے قبل بھی عالمی سطح پر اے آئی کے غیر اخلاقی استعمال کے خلاف آوازیں اٹھتی رہی ہیں، تاہم پوٹس لاء فرم کی جانب سے تسلسل کے ساتھ دائر کیے جانے والے یہ مقدمات اے آئی کے ضوابط اور اخلاقیات پر بحث کو ایک نئے مرحلے پر لے آئے ہیں۔
ایکس اے آئی کی جانب سے ابھی تک اس چوتھے مقدمے پر کوئی تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، تاہم ٹیکنالوجی کے ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ ان واقعات کے بعد اب کمپنیوں پر حکومتی دباؤ مزید بڑھے گا۔ مستقبل میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے ماڈلز کو زیادہ سخت سیکیورٹی پروٹوکولز سے گزارنے کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ کسی بھی صورت میں ٹیکنالوجی کا غلط استعمال نہ ہو سکے۔ عدالتیں اب اس بات کا تعین کریں گی کہ آیا کمپنی نے اپنے پلیٹ فارم کو محفوظ بنانے میں غفلت برتی ہے یا نہیں۔