LIVE
Loading Breaking News...

ریڈی چلڈرنز ہسپتال میں 3D پرنٹنگ ٹیکنالوجی کا طبی میدان میں استعمال

News Image
ریڈی چلڈرنز ہسپتال میں قائم جدید تھری ڈی لیب بچوں کی پیچیدہ سرجریوں میں انقلابی تبدیلیاں لا رہی ہے۔ یہ ٹیکنالوجی سرجنز کو آپریشن سے قبل اعضاء کے درست ماڈلز بنا کر کامیابی کے امکانات بڑھانے میں مدد فراہم کرتی ہے۔
امریکہ کے ریڈی چلڈرنز ہسپتال میں قائم ایک جدید تھری ڈی لیب بچوں کی سرجری کے شعبے میں نئے دور کا آغاز کر رہی ہے۔ بچوں کے دل کے ٹرانسپلانٹ میں سب سے بڑی رکاوٹ عطیہ کنندگان کی کمی ہے، جس کی وجہ سے اکثر سرجنز کو بالغوں کے دل استعمال کرنے پڑتے ہیں۔ چونکہ بالغ دل کا حجم بچوں کے سینے کے کیوٹی کے حساب سے بہت بڑا ہوتا ہے، اس لیے ان کی فٹنگ ایک انتہائی نازک اور پیچیدہ عمل ہوتا ہے۔ یہیں پر جدید تھری ڈی پرنٹنگ ٹیکنالوجی سرجنز کے لیے ایک ناگزیر مددگار ثابت ہو رہی ہے۔ اس ٹیکنالوجی کی بدولت، میڈیکل ٹیمیں اب مریض کے جسم کے اعضاء کے درست ترین تھری ڈی ماڈل تیار کرنے کے قابل ہو گئی ہیں۔ آپریشن تھیٹر میں جانے سے پہلے، سرجن ان ماڈلز پر مشق کر سکتے ہیں اور دیکھ سکتے ہیں کہ کسی مخصوص دل کا حجم بچے کے سینے میں کس طرح فٹ ہوگا۔ اس عمل سے نہ صرف سرجری کے دوران درپیش خطرات میں نمایاں کمی آئی ہے بلکہ وقت کی بچت بھی ہوتی ہے جو جان بچانے کے لیے انتہائی اہم ہے۔ ماضی میں اس طرح کی منصوبہ بندی صرف تصاویر یا سی ٹی اسکین تک محدود تھی، لیکن اب ٹھوس ماڈلز نے تشخیص کو مزید یقینی بنا دیا ہے۔ اس لیب میں ماہرین اور سرجنز کا گٹھ جوڑ طبی سائنس کی افادیت کو ایک نئی بلندی پر لے جا رہا ہے۔ تھری ڈی پرنٹڈ ماڈلز خاص طور پر دل کے پیدائشی نقائص اور ان پیچیدہ کیسز میں زیادہ مفید ثابت ہو رہے ہیں جہاں سرجری سے قبل تیاری کے لیے کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔ ہسپتال انتظامیہ کا ماننا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی آنے والے برسوں میں نہ صرف بچوں کی سرجری کے نتائج کو بہتر بنائے گی بلکہ اسے دیگر طبی شعبوں میں بھی بڑے پیمانے پر لاگو کیا جا سکے گا۔ اس اختراعی اقدام نے والدین اور طبی برادری کے لیے امید کی ایک نئی کرن پیدا کر دی ہے۔ ریڈی چلڈرنز ہسپتال کا یہ ماڈل اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ کس طرح جدید ٹیکنالوجی کو انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے بروئے کار لا کر ناممکن کو ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ ہسپتال اب اس لیب کی استعداد کو بڑھانے کے لیے مزید وسائل خرچ کر رہا ہے تاکہ مستقبل میں مزید پیچیدہ کیسز کو کامیابی کے ساتھ ہینڈل کیا جا سکے اور بچوں کی صحت کے شعبے میں جدید ترین سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔