Business
پاکستان میں کرنسی ریٹس آج - ڈالر، ریال، درہم اور پاؤنڈ کی قیمتیں
پاکستان کے صرافہ بازاروں اور اوپن مارکیٹ میں غیر ملکی کرنسیوں کے نرخوں میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ جاری ہے۔ ماہرین کے مطابق بین الاقوامی منڈی کے اثرات مقامی کرنسی مارکیٹ پر واضح طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
اسلام آباد (نیکسوورا نیوز) پاکستان میں مالیاتی منڈیوں کے آغاز کے ساتھ ہی اہم غیر ملکی کرنسیوں کے تبادلے کے نرخ جاری کر دیئے گئے ہیں۔ اوپن مارکیٹ اور انٹربینک میں امریکی ڈالر، سعودی ریال، متحدہ عرب امارات کے درہم اور برطانوی پاؤنڈ کی قیمتوں میں معمولی ردوبدل دیکھا گیا ہے، جس پر تجارتی حلقوں کی گہری نظر ہے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ ملکی معیشت کی موجودہ صورتحال میں ان کرنسیوں کے نرخ براہ راست درآمدات، برآمدات اور سمندر پار پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلاتِ زر پر اثرانداز ہوتے ہیں۔
امریکہ ڈالر کے حوالے سے کاروباری حضرات اور عام شہریوں میں ہمیشہ سب سے زیادہ دلچسپی پائی جاتی ہے کیونکہ پاکستان میں درآمدی اشیاء اور بیرونی قرضوں کے معاملات زیادہ تر اسی کرنسی میں طے پاتے ہیں۔ علاوہ ازیں، مشرق وسطیٰ بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں مقیم لاکھوں پاکستانیوں کے لیے سعودی ریال اور اماراتی درہم کی قدر انتہائی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ وہ روزمرہ کی بنیاد پر اپنے اہل خانہ کو رقوم ارسال کرتے ہیں۔ ان دونوں خلیجی کرنسیوں کے نرخوں میں استحکام سے پاکستانی خاندانوں کی قوتِ خرید پر بھی اثر پڑتا ہے۔
دوسری جانب برطانوی پاؤنڈ کی قیمت بھی یورپی منڈیوں کے رجحانات سے جڑی ہوئی ہے اور پاکستان میں اس کی قدر بھی روپیہ کے مقابلے میں مسلسل تبدیل ہوتی رہتی ہے۔ معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے مانیٹری پالیسی اور شرح سود کے فیصلوں کا مقصد ز مبادلہ کے ذخائر کو مستحکم رکھنا اور روپے کی قدر کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔ تاجروں اور عوام کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ کسی بھی قسم کے مالیاتی لین دین سے قبل بینکوں یا مجاز صرافہ ڈیلروں سے باضابطہ اور تازہ ترین نرخ ضرور معلوم کر لیں تاکہ کسی بھی معاشی نقصان سے بچا جا سکے۔