Business
ٹرمپ کا 100 فیصد ڈرون ٹیرف: امریکی کمپنیوں کے حصص میں زبردست تیزی
ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے درآمدی ڈرونز پر 100 فیصد ٹیرف عائد کرنے کے اعلان کے بعد امریکی ڈرون ساز کمپنیوں کے شیئرز میں نمایاں تیزی دیکھی گئی ہے۔ اس اقدام سے مقامی کمپنیوں کو عالمی مقابلے میں براہ راست فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے درآمدی ڈرونز اور متعلقہ پرزہ جات پر 100 فیصد کسٹم ڈیوٹی یا ٹیرف عائد کرنے کے اعلان نے وال اسٹریٹ اور ڈرون ٹیکنالوجی کے شعبے میں ایک بڑی ہلچل پیدا کر دی ہے۔ اس پالیسی اعلان کے فوری بعد مارکیٹ میں امریکی ڈرون ساز کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ غیر ملکی مصنوعات کی درآمد کو مہنگا کرنے کے اس اقدام کا مقصد مقامی صنعت کو تحفظ فراہم کرنا اور چینی یا دیگر بین الاقوامی حریفوں کے مقابلے میں امریکی کمپنیوں کی پوزیشن کو مستحکم کرنا ہے۔
مارکیٹ کے اعداد و شمار کے مطابق، 'ان یوزول مشینز' (Unusual Machines) کے حصص میں 22 فیصد کا غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو کہ سرمایہ کاروں کے اس فیصلے پر اعتماد کو ظاہر کرتا ہے۔ اسی طرح 'ریڈ کیٹ' (Red Cat) کے حصص کی قدر میں بھی 8 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ 'اونڈاس ہولڈنگز' (Ondas Holdings) کے حصص نے 4 فیصد کی بہتری حاصل کی۔ سرمایہ کار ان کمپنیوں کو اب ایک محفوظ پناہ گاہ کے طور پر دیکھ رہے ہیں کیونکہ یہ کمپنیاں ان درآمدی حصوں کا متبادل فراہم کرتی ہیں جن پر اب بھاری ٹیکس عائد کیا گیا ہے۔
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ٹرمپ کی یہ پالیسی طویل مدتی بنیادوں پر امریکی ڈرون انڈسٹری کے لیے ایک 'گیم چینجر' ثابت ہو سکتی ہے۔ اگرچہ اس فیصلے سے درآمد کنندگان اور ان مصنوعات پر انحصار کرنے والے دیگر کاروباروں کو قیمتوں میں اضافے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، تاہم مقامی مینوفیکچررز کو اب اپنی پیداواری صلاحیت بڑھانے کا سنہری موقع ملے گا۔ خاص طور پر دفاعی اور تجارتی ڈرون تیار کرنے والی مقامی کمپنیاں اب عالمی منڈی میں قیمتوں کے لحاظ سے زیادہ مسابقتی بن سکتی ہیں کیونکہ اب درآمدی پرزے مقامی مارکیٹ میں اپنی کشش کھو دیں گے۔
اس پیش رفت کے بعد، مارکیٹ کے مبصرین کا خیال ہے کہ آنے والے ہفتوں میں ڈرون ٹیکنالوجی کے شعبے سے جڑی دیگر چھوٹی اور درمیانے درجے کی کمپنیوں کے حصص میں بھی تیزی متوقع ہے۔ سرمایہ کار اب محتاط انداز میں ان کمپنیوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں جو ٹیرف سے متاثر ہونے والی درآمدی مصنوعات کا متبادل فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ اقدام امریکی صنعتی تحفظ پسندی کی ایک اہم کڑی ہے، جس کے اثرات عالمی سپلائی چین اور ٹیکنالوجی کی تجارت پر گہرے مرتب ہوں گے۔