LIVE
Loading Breaking News...

عالمی خبریں: اینویڈیا کا اے آئی انفراسٹرکچر منصوبہ اور باسمتی چاول کیس

News Image
آسٹریلیا میں باسمتی چاول سے متعلق قانونی فیصلے پر پاکستان نے اطمینان کا اظہار کیا ہے جبکہ ٹیکنالوجی کی دنیا میں اینویڈیا نے مصنوعی ذہانت کے لیے بڑے مالیاتی منصوبے کا اعلان کیا ہے۔ دوسری جانب امریکی سینیٹ نے جعلی مصنوعات کی روک تھام کے لیے ایک اہم بل متفقہ طور پر منظور کر لیا ہے۔
جمعہ چودہ اگست کی اہم ترین عالمی خبروں کے مطابق، آسٹریلیا میں باسمتی چاول کے قانونی معاملے پر آنے والے فیصلے نے پاکستان میں خوشی کی لہر دوڑا دی ہے۔ پاکستان نے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے جسے زرعی تجارت اور پاکستانی باسمتی چاول کی عالمی ساکھ کے لیے ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ فیصلہ اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ باسمتی چاول کی پہچان اور اس کے معیار پر سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، جس سے بین الاقوامی منڈی میں پاکستانی برآمد کنندگان کا اعتماد بحال ہوا ہے۔ دوسری جانب ٹیکنالوجی کی دنیا میں مصنوعی ذہانت (AI) کی دیو ہیکل کمپنی اینویڈیا (Nvidia) نے ایک انتہائی اہم اعلان کیا ہے۔ کمپنی نے دنیا بھر کی مختلف سرمایہ کاری کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری قائم کرتے ہوئے پانچ سو ارب ڈالر کے اے آئی انفراسٹرکچر فنانسنگ پلان کا اعلان کیا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد مصنوعی ذہانت سے متعلق ٹیکنالوجی کی ترقی اور عالمی سطح پر اس کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانا ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ یہ اقدام اے آئی کے مستقبل کو نئی جہت دے گا اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں سرمایہ کاری کی ایک نئی لہر پیدا کرے گا۔ امریکہ سے موصول ہونے والی خبروں کے مطابق، امریکی سینیٹ نے جعلی مصنوعات کی روک تھام سے متعلق ایک اہم بل کو متفقہ طور پر منظور کر لیا ہے۔ گراسلے-حسن کاؤنٹر فیٹ بل کا مقصد مارکیٹ میں جعلی اشیاء کی فروخت پر قابو پانا اور صارفین کے حقوق کا تحفظ کرنا ہے۔ اس بل کی منظوری کو تجارتی حلقوں میں سراہا گیا ہے، جس سے امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ آن لائن اور آف لائن مارکیٹوں میں جعلی اشیاء کی تجارت میں نمایاں کمی آئے گی۔ مزید برآں، قانونی میدان میں، سیکنڈ سرکٹ کی جانب سے ایک اہم عدالتی حکم سامنے آیا ہے جس میں ژینوؤس (Xinuos) کی جانب سے آئی بی ایم (IBM) کے خلاف دائر کردہ کاپی رائٹ کی خلاف ورزی کے دعووں کو وقت کی حد پار کرنے کی بنیاد پر مسترد کر دیا گیا ہے۔ یہ عدالتی فیصلہ تکنیکی اور قانونی حلقوں میں زیر بحث ہے، کیونکہ یہ کاپی رائٹ کیسز میں وقتی حدود کے اطلاق کے حوالے سے اہم نظیر قائم کرتا ہے۔ یہ ہفتہ عالمی سطح پر تجارت، ٹیکنالوجی اور قانونی فیصلوں کے حوالے سے کافی متحرک رہا ہے۔