LIVE
Loading Breaking News...

انڈونیشیا کا پہلا یونیورسٹی AI سنٹر: اینویڈیا اور انڈوسات کی اہم پیشرفت

News Image
انڈونیشیا کی گڈجا مادا یونیورسٹی نے انڈوسات اور اینویڈیا کے اشتراک سے ملک کا پہلا اے آئی ٹیکنالوجی سنٹر قائم کر دیا ہے۔ یہ اقدام مقامی سطح پر مصنوعی ذہانت کے ماہرین کی تیاری اور ڈیجیٹل معیشت کو مستحکم کرنے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔
انڈونیشیا نے اپنے ڈیجیٹل مستقبل کو محفوظ بنانے اور مصنوعی ذہانت (AI) کے میدان میں خود کفالت حاصل کرنے کی جانب ایک بڑا قدم اٹھایا ہے۔ حال ہی میں انڈونیشیا کی وزارت مواصلات و ڈیجیٹل امور، انڈوسات اوریڈو ہیچیسن (Indosat)، ٹیکنالوجی کی عالمی کمپنی اینویڈیا (NVIDIA) اور گڈجا مادا یونیورسٹی (UGM) نے مشترکہ طور پر ملک کے پہلے 'UGM Indosat NVIDIA AI Technology Center' کا باقاعدہ افتتاح کیا ہے۔ یہ جدید مرکز مصنوعی ذہانت کی تحقیق، ترقی اور مقامی ٹیلنٹ کو جدید ترین عالمی معیار کی تربیت فراہم کرنے کے لیے وقف ہوگا۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد انڈونیشیا کی نوجوان نسل کو مستقبل کے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے تیار کرنا ہے تاکہ ملک ٹیکنالوجی کے عالمی منظرنامے میں اپنا مقام مستحکم کر سکے۔ اس منصوبے کی خاص بات اینویڈیا جیسی عالمی کمپنی کی شمولیت ہے، جو ہارڈ ویئر اور سافٹ ویئر کے میدان میں مصنوعی ذہانت کے لیے دنیا بھر میں اپنی ایک منفرد پہچان رکھتی ہے۔ یونیورسٹی گڈجا مادا میں قائم ہونے والا یہ مرکز طلبا اور محققین کو جدید ترین کمپیوٹنگ وسائل اور اے آئی ماڈلز تک رسائی فراہم کرے گا۔ انڈوسات کی طرف سے فراہم کردہ بنیادی ڈھانچہ اس بات کو یقینی بنائے گا کہ تحقیقی سرگرمیاں بلاتعطل جاری رہ سکیں، جس سے نہ صرف انڈونیشیا کی یونیورسٹیوں بلکہ صنعتی شعبے کو بھی براہ راست فائدہ پہنچے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ سنٹر انڈونیشیا میں مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تحقیق کے نئے دور کا آغاز کرے گا اور مقامی زبانوں اور ثقافت کے مطابق اے آئی حل تیار کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔ حکومتی نمائندگان کے مطابق، یہ اشتراک نجی شعبے اور تعلیمی اداروں کے درمیان تعاون کی ایک بہترین مثال ہے۔ انڈونیشیا کا ہدف ہے کہ وہ ڈیجیٹل معیشت کو فروغ دے کر اپنی جی ڈی پی میں اضافہ کرے۔ مصنوعی ذہانت کے اس مرکز کے قیام سے مقامی انجینئرز اور ڈیٹا سائنسدانوں کو عالمی معیار کی مہارتیں حاصل ہوں گی، جس سے ملک کو بیرونی تکنیکی انحصار سے نکلنے میں مدد ملے گی۔ آنے والے وقت میں، اس مرکز سے نکلنے والے طلبا انڈونیشیا کی معیشت کے مختلف شعبوں بشمول زراعت، صحت اور تعلیم میں اے آئی ٹیکنالوجی کے نفاذ کے لیے ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کریں گے۔ مستقبل میں توقع کی جا رہی ہے کہ اس طرح کے مزید مراکز دیگر یونیورسٹیوں میں بھی قائم کیے جائیں گے تاکہ ملک بھر میں ٹیکنالوجی کی پہنچ کو یقینی بنایا جا سکے۔ اینویڈیا کی جانب سے فراہم کردہ ماہرانہ معاونت اور انڈوسات کا نیٹ ورک اس مرکز کو خطے کا ایک اہم ترین اے آئی ہب بنانے میں کلیدی ثابت ہوگا۔ یہ پیشرفت نہ صرف انڈونیشیا کے لیے اہم ہے بلکہ یہ پورے جنوب مشرقی ایشیا کے خطے میں تکنیکی جدت طرازی کے لیے ایک نئے معیار کو قائم کرنے کا باعث بنے گی۔