Pakistan
مصدق ملک کا بیان: پانی کی ضابطہ بندی موسمیاتی لچک اور غذائی تحفظ کے لیے ضروری
وفاقی وزیر مصدق ملک نے پانی کی ضابطہ بندی کو ملک میں موسمیاتی لچک اور غذائی تحفظ کے لیے ناگزیر قرار دیا ہے۔ اس دوران ملک بھر میں مون سون بارشوں اور سیلاب کے باعث جاں بحق ہونے والوں کی تعداد سو سے تجاوز کر گئی ہے۔
اسلام آباد: وفاقی وزیر مصدق ملک نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ملک میں پانی کی باقاعدہ ضابطہ بندی اور بہتر انتظام کاری موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے، موسمیاتی لچک پیدا کرنے اور مستقبل میں غذائی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے حالیہ صورتحال کے پیش نظر اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت قدرتی آفات اور پانی کے وسائل کے ضیاع کو روکنے کے لیے موثر اقدامات پر غور کر رہی ہے۔ یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب پاکستان بھر میں مون سون کی تباہ کن بارشوں اور ان کے نتیجے میں آنے والے سیلابوں نے شدید تباہی مچا رکھی ہے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق، حالیہ بارشوں اور سیلاب کے باعث ملک بھر میں جاں بحق ہونے والے افراد کی مجموعی تعداد ایک سو سے تجاوز کر گئی ہے، جس سے انسانی جانوں کے ضیاع کے ساتھ ساتھ بڑے پیمانے پر مالی نقصان بھی ہوا ہے۔ محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) نے خبردار کیا ہے کہ ستائیس یا انیس جولائی کے قریب پاکستان میں مون سون کی بارشوں کا ایک نیا اور تازہ سلسلہ شروع ہونے کا امکان ہے، جس سے ملک کے مختلف حصوں میں مزید بارشوں اور ممکنہ سیلابی صورتحال کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ انے والے ان نئے خطرات کے پیش نظر متعلقہ اداروں کو الرٹ کر دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے بروقت نمٹا جا سکے اور انسانی جانوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے.