Education
اسکولوں میں ٹیکنالوجی کا اثر: امریکی والدین پریشان
ایک حالیہ سروے کے مطابق امریکی عوام کی بڑی تعداد اسکولوں میں ٹیکنالوجی تک غیر محدود رسائی کے حوالے سے شدید فکرمند ہے۔ شہریوں کو تعلیمی اہداف کے حصول میں ناکامی، ذہنی دباؤ اور غنڈہ گردی جیسے مسائل پر گہری تشویش ہے۔
امریکہ میں جاری ایک حالیہ سروے کے نتائج نے تعلیمی ماہرین اور والدین کے لیے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ سروے کے مطابق، امریکی عوام کی ایک بڑی اکثریت مقامی اسکولوں میں طلبہ کو دی جانے والی ٹیکنالوجی تک بے جا رسائی پر شدید تشویش کا شکار ہے۔ والدین کا ماننا ہے کہ کلاس رومز میں ڈیجیٹل آلات کا حد سے زیادہ استعمال بچوں کی تعلیمی کارکردگی اور سماجی رویوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق، تقریباً 84 فیصد امریکی شہری اس بات پر پریشان ہیں کہ اسکولوں میں ٹیکنالوجی کی کثرت کی وجہ سے طلبہ اپنے تعلیمی اہداف حاصل کرنے میں ناکام ہو رہے ہیں۔
اس تشویش کا دائرہ کار صرف تعلیمی نتائج تک محدود نہیں ہے بلکہ اسکولوں میں بڑھتی ہوئی سماجی برائیوں کو بھی ٹیکنالوجی سے جوڑا جا رہا ہے۔ سروے میں شامل 83 فیصد افراد نے اسکولوں میں غنڈہ گردی (bullying) کے بڑھتے ہوئے رجحان پر خدشات کا اظہار کیا ہے، جبکہ 80 فیصد والدین کو اپنے بچوں پر ساتھیوں کے دباؤ (peer pressure) کا خوف ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل آلات تک مسلسل رسائی بچوں کو سائبر غنڈہ گردی اور دیگر سماجی مسائل کا شکار بنا رہی ہے، جو ان کی اخلاقی نشوونما کے لیے ایک چیلنج ہے۔
اس کے علاوہ، طلبہ کی ذہنی صحت بھی ایک سنگین معاملہ بن کر سامنے آئی ہے۔ سروے کے مطابق، 78 فیصد امریکی شہریوں کو اس بات کی فکر ہے کہ اسکولوں میں ٹیکنالوجی کے استعمال سے بچوں میں ڈپریشن اور اینگزائٹی (بے چینی) کے کیسز میں اضافہ ہو رہا ہے۔ مزید برآں، 76 فیصد افراد اسکولوں کے اندر تشدد کے واقعات پر بھی فکر مند ہیں۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ امریکی معاشرہ اسکولوں میں ٹیکنالوجی کے غیر منظم استعمال کو بچوں کے محفوظ مستقبل کے لیے خطرہ سمجھتا ہے۔
ان خدشات کے پیش نظر اب مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ اسکول انتظامیہ کو تعلیمی اداروں میں ٹیکنالوجی کے استعمال کے حوالے سے سخت اور شفاف پالیسیاں مرتب کرنی چاہئیں۔ والدین کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی کے فوائد اپنی جگہ، لیکن اگر اس کی وجہ سے بچوں کی ذہنی اور سماجی صحت داؤ پر لگی ہو، تو اس پر نظر ثانی کرنا ناگزیر ہے۔ یہ سروے ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا بھر میں ڈیجیٹل دور کے تعلیم پر اثرات کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور تعلیمی حلقے ٹیکنالوجی اور روایتی تدریسی طریقوں کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔