Technology
مصنوعی ذہانت کے مستقبل پر نوجوانوں کو تحفظات، سروے رپورٹ جاری
ایک حالیہ سروے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ نوجوان نسل اب مصنوعی ذہانت کے مستقبل اور اسے فروغ دینے والے ارب پتی شخصیات پر اعتماد نہیں کر رہی۔ بڑی تعداد کا ماننا ہے کہ اے آئی ان کے کیریئر اور ملازمتوں کے مواقع کے لیے نقصان دہ ثابت ہوگا۔
جدید ٹیکنالوجی کے دور میں مصنوعی ذہانت (AI) نے دنیا کو بدل کر رکھ دیا ہے، تاہم ایک تازہ ترین سروے سے انکشاف ہوا ہے کہ نوجوان نسل اب اس ٹیکنالوجی کے حوالے سے شدید شکوک و شبہات کا شکار ہے۔ سروے کے مطابق، دنیا بھر کے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد نہ صرف مصنوعی ذہانت کے مستقبل کے بارے میں پرامید نہیں ہے، بلکہ ان ارب پتی ٹیکنالوجی لیڈروں پر بھی اعتماد نہیں کرتی جو مسلسل یہ پیغام دے رہے ہیں کہ اے آئی انسانیت کے لیے فائدہ مند ہے۔ یہ مایوسی نوجوانوں کے مستقبل اور ان کے کیریئر کے حوالے سے بڑھتے ہوئے خدشات کی عکاس ہے۔
تحقیق کے نتائج کے مطابق تقریباً نصف نوجوانوں کا یہ ماننا ہے کہ مصنوعی ذہانت کا فروغ ان کے کیریئر پر منفی اثرات مرتب کرے گا۔ نوجوانوں میں یہ خوف پایا جاتا ہے کہ آٹومیشن اور اے آئی ٹولز ان کی ملازمتوں کے مواقع کو محدود کر دیں گے یا انہیں مکمل طور پر ختم کر دیں گے۔ صرف ملازمت کا خوف ہی نہیں، بلکہ نوجوان اس ٹیکنالوجی کے اخلاقی پہلوؤں اور سماجی اثرات کو لے کر بھی فکرمند ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ طاقتور ٹیکنالوجی کمپنیاں محض اپنے منافع کے لیے اسے فروغ دے رہی ہیں، جبکہ معاشرتی فلاح و بہبود ان کی ترجیح نہیں ہے۔
سروے کا ایک اور اہم پہلو ٹیکنالوجی کے بڑے ناموں یعنی ارب پتی بانیوں کے حوالے سے عوام کی بدلتی رائے ہے۔ بہت سے نوجوانوں کا کہنا ہے کہ ان ٹیکنالوجی گروز کی طرف سے دیے گئے بیانات اور دعوے حقیقت سے کوسوں دور ہیں۔ یہ عدم اعتماد اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ اب نوجوان نسل ٹیکنالوجی کی اندھی تقلید کے بجائے اس کے دیرپا اثرات اور اسے کنٹرول کرنے والے افراد کے مقاصد کو مشکوک نظر سے دیکھ رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق، اگر ٹیکنالوجی کمپنیاں نوجوانوں کے اس اعتماد کو بحال کرنا چاہتی ہیں، تو انہیں شفافیت کو فروغ دینے اور اے آئی کے محفوظ استعمال کے لیے سخت ضوابط کی ضرورت ہے۔ نوجوانوں کی یہ بڑھتی ہوئی بیزاری اس بات کا اشارہ ہے کہ ڈیجیٹل دنیا میں اخلاقی اقدار اور انسانی روزگار کے تحفظ کو نظر انداز کرنا اب ممکن نہیں ہوگا۔ آنے والے وقت میں مصنوعی ذہانت کا پھیلاؤ صرف تکنیکی کامیابی پر منحصر نہیں ہوگا، بلکہ اس کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ معاشرہ اس تبدیلی کو کس حد تک قبول کرتا ہے اور اسے کنٹرول کرنے والے افراد پر کتنا بھروسہ کرتا ہے۔