LIVE
Loading Breaking News...

آزاد کشمیر انتخابات: ضلع باغ میں پولنگ کا عمل مکمل

News Image
آزاد کشمیر کے ضلع باغ کے دو حلقوں میں قائم تئیس پولنگ اسٹیشنوں پر ضمنی انتخابات کے سلسلے میں پولنگ کا عمل پرامن طریقے سے اختتام پذیر ہو گیا۔ حکومتی جماعت کی جانب سے کامیابی کے دعوے کیے جا رہے ہیں جبکہ اپوزیشن جماعتوں نے دھاندلی کے الزامات عائد کیے ہیں۔
آزاد کشمیر کے ضلع باغ کے دو مختلف حلقوں میں قائم تئیس پولنگ اسٹیشنوں پر ووٹنگ کا عمل آج مکمل ہو گیا ہے۔ اس ضمنی انتخاب کے دوران مقامی سطح پر سخت سیکیورٹی انتظامات کیے گئے تھے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔ پولنگ کا آغاز صبح سویرے ہوا اور شام تک جاری رہا، جس کے دوران ووٹرز کی بڑی تعداد اپنے حق رائے دہی کا استعمال کرنے کے لیے قطاروں میں کھڑی دکھائی دی۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے پولنگ کے عمل کو شفاف بنانے کے لیے خصوصی ہدایات جاری کی گئی تھیں۔ دوسری جانب، ان انتخابات کے حوالے سے سیاسی درجہ حرارت کافی بلند رہا۔ پاکستان کی حکمراں جماعت نے اپنی کامیابی کے لیے مضبوط عزم ظاہر کیا ہے اور سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ حکومتی جماعت انتخابی دوڑ میں سبقت حاصل کرنے کے لیے پرامید ہے۔ حکومتی حلقوں کی جانب سے انتخابات کے نتائج کو عوامی مینڈیٹ کی جیت قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم، اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے انتخابی عمل کے دوران دھاندلی کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں، جس سے سیاسی صورتحال میں کشیدگی پائی جاتی ہے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) نے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی میں اپنی نشستوں کی تعداد میں اضافے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی سمیت دیگر جماعتوں نے انتخابی عمل پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ مریم نواز سمیت مسلم لیگ (ن) کی اعلیٰ قیادت نے اپوزیشن کی جانب سے لگائے گئے دھاندلی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اسے سیاسی مایوسی قرار دیا ہے۔ انتخابی عمل کے دوران کہیں کہیں ہلکی کشیدگی کی اطلاعات بھی موصول ہوئیں لیکن سیکیورٹی اداروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے امن و امان کی صورتحال کو قابو میں رکھا۔ اب تمام حلقوں کی نظریں نتائج کے اعلان پر مرکوز ہیں۔ پولنگ اسٹیشنوں سے بیلٹ بکسوں کو سخت سیکیورٹی میں ریٹرننگ افسران کے دفاتر منتقل کیا جا رہا ہے جہاں گنتی کا عمل شروع ہوگا۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان نشستوں کے نتائج آزاد کشمیر کی مجموعی سیاسی سمت کے تعین میں اہم کردار ادا کریں گے۔ عوام اب بے چینی سے حتمی نتائج کا انتظار کر رہے ہیں تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ کون سی سیاسی جماعت باغ کے ان اہم حلقوں میں کامیابی حاصل کرنے میں کامیاب رہی ہے۔