World
پاکستان اور کویت دفاعی معاہدہ، اسلام آباد کا فوج بھیجنے سے انکار
کویت کے وزیر خارجہ کے دورہ پاکستان سے قبل دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعلقات کو مضبوط بنانے پر غور کیا جا رہا ہے۔ اس مجوزہ دفاعی معاہدے میں سکیورٹی تعاون اور انٹیلی جنس شیئرنگ شامل ہے، جبکہ پاکستان نے کسی بھی قسم کی جنگی فوج بھیجنے کے امکانات کو مسترد کر دیا ہے۔
کویت اور پاکستان کے درمیان دفاعی تعلقات کو ایک نئی سطح پر لے جانے کے لیے اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، جہاں کویت سعودی عرب کی طرز پر پاکستان کے ساتھ ایک جامع دفاعی معاہدے کا خواہاں ہے۔ اس سلسلے میں کویتی وزیر خارجہ کا دورہ پاکستان شیڈول ہے جس میں دوطرفہ تعلقات کو مزید مستعم کرنے کے حوالے سے اہم امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے دفاعی تعاون چلا آ رہا ہے، تاہم اس نئے معاہدے کے تحت انٹیلی جنس شیئرنگ اور باہمی عسکری مہارت کے تبادلے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اقدام خلیجی خطے میں سکیورٹی کے تناظر میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ دوسری طرف اسلام آباد کی عسکری اور سیاسی قیادت نے واضح کیا ہے کہ اس دفاعی تعاون کے باوجود کسی بھی خطے میں پاکستانی فوج کے دستے تعینات نہیں کیے جائیں گے۔ پاکستان پہلے بھی اس اصول پر کاربند رہا ہے کہ وہ دوست ممالک کی دفاعی صلاحیتوں کو بڑھانے اور تکنیکی معاونت فراہم کرنے کے لیے تیار ہے، لیکن براہ راست فوجی مداخلت یا بیرون ملک فوج بھیجنے کی کوئی پالیسی زیر غور نہیں ہے۔ اس حالیہ پیشرفت سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان خلیجی ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو معاشی اور دفاعی دونوں محاذوں پر وسعت دینا چاہتا ہے، جس میں قطر اور ترکیہ کے ساتھ بھی اسٹریٹجک شراکت داری کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ اس دورے کے بعد دونوں ممالک کے مابین دوطرفہ تعاون کے نئے دروازے کھلیں گے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے مشترکہ کوششیں بارآور ثابت ہوں گی۔