Politics
جیف مرکلے بمقابلہ ڈونلڈ ٹرمپ: امریکی جمہوریت کو بچانے کی نئی مہم
امریکی سینیٹر جیف مرکلے نے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مبینہ طور پر جمہوریت کو نقصان پہنچانے والے اقدامات کو روکنے کے لیے ایک جامع منصوبہ پیش کیا ہے۔ مرکلے کا ماننا ہے کہ ٹرمپ کی پالیسیاں امریکی جمہوری اقدار کے لیے شدید خطرہ ہیں۔
امریکی ریاست اوریگون سے تعلق رکھنے والے سینیٹر جیف مرکلے نے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سیاسی حکمت عملیوں اور ان کے 'آمرانہ اقدامات' کے خلاف ایک سخت مؤقف اپناتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ امریکی جمہوری نظام کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ سینیٹر مرکلے کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ ایک ایسے 'مضبوط آمر' بننے کی کوشش کر رہے ہیں جو امریکی آئینی اداروں اور جمہوریت کی بنیادوں کو کمزور کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا سیاسی طرزِ عمل دراصل ایک سوچے سمجھے منصوبے کا حصہ ہے جس کا مقصد ملک کے جمہوری ڈھانچے کو اپنے ذاتی مفادات کے تابع کرنا ہے۔
جیف مرکلے نے اپنی گفتگو میں اس بات پر زور دیا کہ موجودہ صورتحال میں سینیٹ اور دیگر سرکاری اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ٹرمپ کی انتظامی پالیسیوں کے سامنے ایک مضبوط دیوار بن کر کھڑے ہوں۔ ان کے نزدیک ٹرمپ کی جانب سے استعمال کیا جانے والا 'آمرانہ پلے بک' نہ صرف کانگریس کی طاقت کو محدود کرنے کی کوشش ہے بلکہ یہ امریکی عدلیہ اور دیگر آزاد اداروں کی خودمختاری پر بھی براہِ راست حملہ ہے۔ مرکلے کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ قانون سازوں کو چاہیے کہ وہ ان اقدامات کے خلاف متحد ہو کر آواز اٹھائیں تاکہ جمہوری اقدار کو کسی قسم کا نقصان نہ پہنچے۔
سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ جیف مرکلے کا یہ اقدام ڈیموکریٹک پارٹی کے ان ارکان کی عکاسی کرتا ہے جو آئندہ انتخابات کے پیشِ نظر ٹرمپ کے سیاسی بیانیے کو خطرناک قرار دیتے ہیں۔ مرکلے نے خاص طور پر اس بات پر زور دیا کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے برسوں میں امریکی جمہوریت کا توازن بگڑ سکتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اقتدار کے مرکوز ہونے کا رجحان ہمیشہ جمہوری معاشروں کے لیے تباہ کن ثابت ہوتا ہے، اس لیے امریکی عوام اور قانون سازوں کو جمہوریت کے تحفظ کے لیے بیدار رہنا ہوگا۔
واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے حامی ان الزامات کو مسترد کرتے ہیں اور اسے سیاسی مخالفین کی جانب سے ایک پروپیگنڈا قرار دیتے ہیں۔ تاہم، جیف مرکلے کی یہ مہم امریکی سیاست میں جاری شدید دھڑے بندی کو ایک بار پھر واضح کر رہی ہے۔ جہاں ایک طرف ٹرمپ کی مقبولیت کا دعویٰ کیا جاتا ہے، وہیں دوسری طرف مرکلے جیسے رہنما یہ دلیل دے رہے ہیں کہ ملک کا مستقبل اور اس کا جمہوری تشخص صرف اور صرف آئین کی بالادستی اور طاقت کے درست توازن میں ہی پوشیدہ ہے۔