LIVE
Loading Breaking News...

بھارت میں سٹارٹ اپس اور ٹیکنالوجی کی ترقی کے لیے نئی حکمت عملی

News Image
بھارت میں موجودہ سرکاری خریداری کی پالیسیاں اکثر قائم شدہ کمپنیوں کو فائدہ پہنچاتی ہیں جس سے نئی جدت طرازی کے عمل میں رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں۔ پائیدار اقتصادی ترقی کے لیے سٹارٹ اپس کو مواقع فراہم کرنا اور کاروباری قواعد و ضوابط میں نرمی لانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
بھارت میں ٹیکنالوجی اور صنعتی شعبے میں خود انحصاری کا خواب شرمندہ تعبیر کرنے کے لیے ضروری ہے کہ موجودہ حکومتی پالیسیوں پر نظر ثانی کی جائے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ملک کی موجودہ سرکاری خریداری کی پالیسیاں اکثر ایسی بڑی اور پرانی کمپنیوں کے حق میں جاتی ہیں جو پہلے سے مارکیٹ میں مضبوطی سے جمی ہوئی ہیں۔ یہ صورتحال ان نئے اور ابھرتے ہوئے سٹارٹ اپس کے لیے ایک بڑی رکاوٹ ہے جو جدید ٹیکنالوجی اور اختراعی خیالات کے ساتھ میدان میں اترنا چاہتے ہیں۔ جب تک خریداری کے عمل کو شفاف اور چھوٹے کاروباروں کے لیے سازگار نہیں بنایا جائے گا، تب تک ملک میں حقیقی جدت طرازی کا سفر سست روی کا شکار رہے گا۔ علاوہ ازیں، بھارت کی بڑی کارپوریٹ کمپنیاں اکثر سٹارٹ اپس کے ساتھ شراکت داری سے قبل ان سے حد سے زیادہ اسناد اور سابقہ تجربے کا مطالبہ کرتی ہیں۔ یہ رویہ ان نوجوان کاروباری افراد کی حوصلہ شکنی کا باعث بنتا ہے جو اپنی ٹیکنالوجی کو ثابت کرنے کے لیے مواقع کی تلاش میں ہوتے ہیں۔ ایک ایسے ماحول میں جہاں عالمی سطح پر مقابلے کی دوڑ لگی ہوئی ہے، بڑی کمپنیوں کا یہ تنگ نظر رویہ مقامی سطح پر ٹیکنالوجی کی ترقی کی راہ میں دیوار بن رہا ہے۔ اگر بھارت کو عالمی معیار کی ٹیکنالوجی خود تیار کرنی ہے تو اسے اپنے 'ایکو سسٹم' کو تبدیل کرنا ہوگا۔ پائیدار اقتصادی ترقی کے حصول کے لیے ضروری ہے کہ نجی شعبہ اور حکومت دونوں مل کر ایسے قواعد وضع کریں جو نئے خیالات کو پروان چڑھانے میں مددگار ثابت ہوں۔ اس میں سرکاری ٹینڈرز کے عمل کو آسان بنانا اور سٹارٹ اپس کے لیے 'کریڈینشلز' کی سخت شرائط کو نرم کرنا شامل ہے۔ جب تک مقامی سٹارٹ اپس کو بڑے پلیٹ فارمز پر ٹیسٹ کرنے کا موقع نہیں ملے گا، تب تک وہ بین الاقوامی کمپنیوں کا مقابلہ کرنے کے قابل نہیں ہو سکیں گے۔ آخر میں، بھارت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ کون سی ٹیکنالوجی اسے مقامی سطح پر تیار کرنی چاہیے اور کہاں اسے عالمی تعاون کی ضرورت ہے۔ اندھا دھند انحصار ختم کرنے کا مطلب ہر چیز خود بنانا نہیں بلکہ ان شعبوں میں مہارت حاصل کرنا ہے جہاں بھارت کو مسابقتی فائدہ حاصل ہے۔ ٹیکنالوجی کی دنیا میں کامیابی کا راز مقامی صلاحیتوں پر بھروسہ کرنے اور انہیں عالمی معیار کی سہولیات فراہم کرنے میں پوشیدہ ہے۔ حکومت اگر سٹارٹ اپس کو براہ راست سرکاری پروجیکٹس میں شامل کرے تو نہ صرف مقامی معیشت مستحکم ہوگی بلکہ ملک تکنیکی طور پر خود کفیل بھی بنے گا۔