LIVE
Loading Breaking News...

ایکسس کیڈز کی مالی رپورٹ: آمدنی میں 42.2 فیصد کا نمایاں اضافہ

News Image
ایکسس کیڈز ٹیکنالوجیز نے مالی سال 2027 کی پہلی سہ ماہی کے دوران شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 346.7 کروڑ روپے کی ریکارڈ آمدنی حاصل کی ہے۔ کمپنی کی ترقی میں دفاعی شعبے اور زیڈا (XiDA) کے پورٹ فولیوز نے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔
بینگلورو میں قائم معروف ٹیکنالوجی اور انجینئرنگ کمپنی ایکسس کیڈز ٹیکنالوجیز (AXISCADES Technologies) نے مالی سال 2027 کی پہلی سہ ماہی کے لیے اپنے شاندار مالیاتی نتائج کا اعلان کر دیا ہے۔ جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، کمپنی نے 346.7 کروڑ روپے کی ریکارڈ آپریشنل آمدنی حاصل کی ہے، جس میں بند شدہ آپریشنز بھی شامل ہیں۔ گزشتہ برس کی اسی مدت کے مقابلے میں یہ آمدنی 42.2 فیصد زیادہ ہے، جو کمپنی کی مضبوط مارکیٹ پوزیشن اور مستحکم ترقی کی عکاسی کرتی ہے۔ کمپنی کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس متاثر کن کامیابی کے پیچھے دفاعی شعبے (Defence) اور زیڈا (XiDA) کے پورٹ فولیو کی کارکردگی کا سب سے بڑا ہاتھ ہے۔ دفاعی ٹیکنالوجی کے شعبے میں کمپنی کے نئے پروجیکٹس اور انجینئرنگ سلوشنز نے سرمایہ کاروں اور کلائنٹس کا اعتماد بحال رکھا ہے۔ کمپنی اپنے ریٹینڈ پورٹ فولیو پر مسلسل توجہ مرکوز رکھے ہوئے ہے، جس کے باعث آپریشنل اخراجات کے بہتر انتظام اور مہارتوں کی بدولت منافع میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ایکسس کیڈز کے سی ای او اور ماہرین نے اس کامیابی کو کمپنی کی طویل مدتی حکمت عملی کا نتیجہ قرار دیا ہے۔ کمپنی نہ صرف اپنی روایتی مارکیٹوں میں مضبوط ہے بلکہ نئے تکنیکی میدانوں میں بھی اپنی جگہ بنانے میں کامیاب رہی ہے۔ ڈیجیٹل تبدیلی اور مینوفیکچرنگ انجینئرنگ میں جدت طرازی نے کمپنی کو عالمی مسابقت میں برتری دلائی ہے۔ آنے والی سہ ماہیوں کے لیے بھی کمپنی کی جانب سے مثبت پیش رفت متوقع ہے، کیونکہ وہ اپنے آرڈر بک کو مزید وسیع کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ مالیاتی تجزیہ کاروں کے مطابق، 42.2 فیصد کی سالانہ ترقی ایکسس کیڈز کو انڈسٹری کے دیگر حریفوں کے مقابلے میں ایک مضبوط مقام فراہم کرتی ہے۔ کمپنی کا فوکس نہ صرف آمدنی بڑھانے پر ہے بلکہ معیار اور ٹیکنالوجی کی فراہمی میں بھی وہ کسی سے پیچھے نہیں ہے۔ مستقبل میں کمپنی مزید جدید ٹیکنالوجیز کو اپنے پورٹ فولیو میں شامل کرنے اور عالمی سطح پر اپنی موجودگی کو مستحکم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، جس سے شیئر ہولڈرز کے اعتماد میں مزید اضافہ ہوگا۔