World
امریکی بحریہ میں تبدیلی: ٹرمپ کے سٹیم پاور کے دور کی واپسی پر غور
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امریکی بحریہ کے جدید تکنیکی نظاموں میں تبدیلی اور پرانے طرز کے سٹیم سسٹم پر واپسی کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ یہ اقدام امریکی دفاعی حکمت عملی میں ایک بڑی تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امریکی بحریہ کو ٹیکنالوجی کے اعتبار سے ماضی کی طرف لے جانے کے اشارے نے عالمی دفاعی حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ رپورٹس کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ایسے اقدامات پر غور کیا جا رہا ہے جن کے تحت امریکی بحریہ کے جدید ترین برقی مقناطیسی کیٹاپلٹ سسٹم کے بجائے دوبارہ بھاپ سے چلنے والے سٹیم سسٹمز کو ترجیح دی جا سکے۔ یہ ایک ایسا قدم ہے جو امریکی جنگی جہازوں کی تکنیکی ساخت کو کئی دہائیاں پیچھے لے جانے کے مترادف سمجھا جا رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید امریکی طیارہ بردار جہازوں میں الیکٹرو میگنیٹک لانچ سسٹم نصب کیے گئے ہیں جو انتہائی درست اور کارگر ہیں، تاہم ان کی دیکھ بھال اور پیچیدہ تکنیکی مہارت کی ضرورت نے حکام کو تشویش میں مبتلا کر رکھا ہے۔ ٹرمپ کا موقف رہا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کے مسائل سے بچنے کے لیے پرانے، آزمودہ اور سادہ سٹیم پاور سسٹمز زیادہ قابل اعتماد ہو سکتے ہیں، جنہیں جنگی حالات میں مرمت کرنا انتہائی آسان ہوتا ہے۔ یہ پالیسی شفٹ امریکی بحریہ کی آپریشنل صلاحیتوں پر دور رس اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
دوسری جانب دفاعی تجزیہ کاروں نے اس فیصلے پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ جہاں ایک طرف کچھ ماہرین اسے لاگت میں کمی اور سسٹم کی سادگی کے لیے درست اقدام قرار دے رہے ہیں، وہیں بڑی تعداد اس کو تکنیکی ترقی کی راہ میں رکاوٹ قرار دے رہی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ اگر امریکہ اپنی بحریہ کو واپس بھاپ والے دور میں لے جاتا ہے تو اس سے چین اور روس جیسے حریف ممالک کو تکنیکی برتری حاصل کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔
فی الحال یہ معاملہ صرف پالیسی سطح پر بحث کا حصہ ہے، تاہم اس پر ہونے والی پیش رفت پر پوری دنیا کی نظریں مرکوز ہیں۔ امریکی بحریہ کے مستقبل کے حوالے سے یہ فیصلہ نہ صرف تکنیکی بلکہ مالیاتی اور سٹریٹجک اعتبار سے بھی ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ کیا ٹرمپ انتظامیہ واقعی اپنے اس ارادے پر عملدرآمد کرتی ہے یا یہ صرف ایک سیاسی بیانیہ ثابت ہوتا ہے۔