LIVE
Loading Breaking News...

بینکسی کے آرٹ ورکس: برطانیہ کو بھاری قیمت چکانی پڑ گئی

News Image
برطانیہ میں مشہور گمنام آرٹسٹ بینکسی کے تین فن پاروں کی حفاظت اور دیگر اخراجات کی مد میں برطانوی عوام کے تقریباً ڈیڑھ لاکھ پاؤنڈز خرچ ہو چکے ہیں۔ حکومتی دستاویزات کے مطابق یہ اخراجات آرٹ ورکس کو محفوظ بنانے اور ان کی صفائی کے لیے کیے گئے ہیں۔
برطانیہ میں مشہور اور پراسرار آرٹسٹ 'بینکسی' کے فن پارے جہاں دنیا بھر میں اپنی انفرادیت اور سیاسی و سماجی پیغام کی وجہ سے مقبول ہیں، وہیں حال ہی میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ان فن پاروں کی دیکھ بھال اور حفاظت برطانوی ٹیکس دہندگان کے لیے ایک بھاری مالی بوجھ بن گئی ہے۔ ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں موجود بینکسی کے تین اہم آرٹ ورکس کی حفاظت، سیکورٹی اور صفائی ستھرائی کے انتظامات پر اب تک تقریباً 1 لاکھ 50 ہزار برطانوی پاؤنڈز (جو کہ تقریباً 2 لاکھ امریکی ڈالر کے برابر ہیں) خرچ کیے جا چکے ہیں۔ یہ اخراجات خاص طور پر ان مقامات پر کیے گئے ہیں جہاں یہ فن پارے نصب ہیں اور عوامی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ بینکسی کے کام کو عوامی مقامات پر محفوظ رکھنا ایک چیلنج بن چکا ہے۔ بہت سے مقامات پر ان فن پاروں کو نقصان پہنچنے کا خدشہ رہتا ہے، جس کی وجہ سے حکومت کو وہاں خصوصی سیکورٹی اہلکار تعینات کرنے پڑتے ہیں اور جدید کیمرے نصب کرنا پڑتے ہیں۔ اس کے علاوہ وقتاً فوقتاً ان فن پاروں کو ضائع ہونے سے بچانے کے لیے ماہرین کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں، جس پر خطیر رقم خرچ ہوتی ہے۔ لندن کے مختلف علاقوں میں قائم یہ آرٹ کے شاہکار اگرچہ سیاحوں کی بڑی تعداد کو اپنی جانب متوجہ کرتے ہیں، مگر ان کے تحفظ کے لیے درکار مالی وسائل اب ایک عوامی بحث کا موضوع بن گئے ہیں۔ دوسری جانب، آرٹ کے ناقدین کا کہنا ہے کہ بینکسی کے فن پارے دراصل عوامی ثقافت کا حصہ بن چکے ہیں اور ان کی حفاظت کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے تاکہ آنے والی نسلیں بھی اس تخلیقی ورثے سے مستفید ہو سکیں۔ تاہم، ٹیکس دہندگان کی تنظیموں نے اس پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ عوامی رقم کا ایک بڑا حصہ صرف چند دیواروں پر بنی تصاویر کی حفاظت پر کیوں خرچ کیا جا رہا ہے۔ اس صورتحال نے اس بحث کو مزید ہوا دی ہے کہ کیا حکومت کو اتنی بھاری رقم ایسی چیزوں پر خرچ کرنی چاہیے جو نجی ملکیت کی زمینوں پر بنی ہوتی ہیں، یا پھر ان کے تحفظ کا ذمہ مقامی میونسپلٹیوں کے بجائے نجی شعبے کے سپرد کر دینا چاہیے۔