World
کشمیر میں مظاہرین پر فائرنگ، پاکستان پر سنگین الزامات
انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں اور میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں انتخابات کے دوران سکیورٹی فورسز کے کریک ڈاؤن میں مبینہ طور پر تیس غیر مسلح مظاہرین جاں بحق ہو گئے۔ عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فی الفور مواصلاتی بلیک آؤٹ ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
پاکستان پر یہ سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں کہ اس نے کشمیر میں انتخابات کے دوران ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے خلاف طاقت کا اندھا دھند استعمال کیا، جس کے نتیجے میں کم از کم تیس غیر مسلح مظاہرین گولیاں لگنے سے جاں بحق ہو گئے۔ برطانوی اخبار دی گارڈین اور بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق، علاقے میں انتخابات کے ماحول کے دوران شدید احتجاج دیکھنے میں آیا جس پر سکیورٹی فورسز نے مبینہ طور پر انتہائی سخت کریک ڈاؤن کیا۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اس صورتحال پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر مواصلاتی بلیک آؤٹ کو ختم کرے تاکہ زمینی حقائق اور جانی نقصان کی صحیح معلومات سامنے آ سکیں۔ اس کے علاوہ، بعض دیگر ذرائع نے لاشوں کی موجودگی اور ظالمانہ کریک ڈاؤن کے حوالے سے خوفناک دعوے کیے ہیں، جنہیں بین الاقوامی سطح پر توجہ حاصل ہو رہی ہے۔ دوسری جانب، بھارت کی وزارتِ خارجہ (ایم ای اے) نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں کروائے جانے والے انتخابات کو محض ایک کاسمیٹک مشق اور غیر قانونی قبضے کو چھپانے کی کوشش قرار مسترد کر دیا ہے۔ بھارتی حکام کا موقف ہے کہ ایسے ہتھکنڈوں سے زمینی حقائق کو چھپایا نہیں جا سکتا۔ جیو پولیٹیکل تجزیہ کاروں کا بھی یہ ماننا ہے کہ پاکستان کا کشمیر سے متعلق بیانیہ اس وقت عالمی سطح پر شدید دباؤ کی زد میں ہے اور اسے اندرونی و بیرونی محاذ پر شدید سفارتی و اخلاقی چیلنجز کا سامنا ہے۔ اس پورے تنازعے نے خطے میں انسانی حقوق کی صورتحال اور سیاسی مستقبل پر ایک بار پھر گہرے سوالیہ نشان لگا دیے ہیں، جبکہ بین الاقوامی اداروں کی جانب سے اس واقعے کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے۔