Pakistan
مسلم لیگ ن کا آزاد کشمیر میں ترقیاتی منصوبوں پر توجہ مرکوز کرنے کا فیصلہ
پاکستان مسلم لیگ ن کی قیادت نے مری میں ہونے والے اجلاس کے دوران آزاد کشمیر میں حکومتی کارکردگی میں کوتاہیوں کا برملا اعتراف کیا ہے۔ پارٹی نے خطے میں ترقیاتی کاموں کو تیز کرنے اور سیاسی مخالفت کو دشمنی میں نہ بدلنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
پاکستان کی حکمراں جماعت مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے حال ہی میں مری میں منعقدہ ایک اہم اجلاس کے دوران آزاد کشمیر میں اپنی حکومتی کارکردگی اور نظم و نسق میں حائل رکاوٹوں اور ناکامیوں کا نہ صرف اعتراف کیا ہے بلکہ خطے کے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے ایک نئی ترقیاتی حکمت عملی تیار کرنے کا عزم بھی ظاہر کیا ہے۔ اجلاس میں پارٹی کے اعلیٰ سطحی رہنماؤں نے شرکت کی جس میں آزاد کشمیر میں آئندہ کی حکومت سازی اور انتظامی امور کو بہتر بنانے پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔ قیادت کا ماننا ہے کہ گزشتہ کچھ عرصے کے دوران عوام کو درپیش مسائل کو حل کرنے میں جو غفلت برتی گئی اسے اب ہنگامی بنیادوں پر دور کیا جائے گا۔
اس موقع پر قائدِ مسلم لیگ (ن) میاں نواز شریف نے سیاسی جماعتوں اور مخالفین کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی اختلافات کو کبھی بھی ذاتی دشمنی اور مخاصمت میں نہیں بدلنا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ ملک اور خطے کی ترقی کے لیے تمام سیاسی دھڑوں کو ایک متفقہ لائحہ عمل اپنانے کی ضرورت ہے تاکہ عوامی فلاح کے کاموں میں رکاوٹ نہ آئے۔ نواز شریف کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آزاد کشمیر میں سیاسی درجہ حرارت اپنے عروج پر ہے اور حزب اختلاف کی جانب سے حکومتی اقدامات پر سخت تنقید کی جا رہی ہے۔
دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما رانا ثنا اللہ نے آزاد کشمیر میں ہونے والے حالیہ انتخابی عمل پر بات کرتے ہوئے دھاندلی کے الزامات کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انتخابی عمل شفاف طریقے سے مکمل ہوا ہے اور حزب اختلاف کے بے بنیاد الزامات کا مقصد صرف سیاسی پوائنٹ اسکورنگ ہے۔ حکومتی ترجمانوں کا کہنا ہے کہ پارٹی اب تمام تر توجہ آزاد کشمیر میں سڑکوں، بنیادی ڈھانچے اور صحت و تعلیم کے شعبوں کی بہتری پر مرکوز کرے گی تاکہ عوام کا کھویا ہوا اعتماد بحال کیا جا سکے۔
مستقبل کے لائحہ عمل کے حوالے سے مری اجلاس میں یہ طے پایا ہے کہ آزاد کشمیر میں ایک متحرک حکومت قائم کی جائے گی جو مرکز کے ساتھ مل کر عوامی مسائل کے حل کے لیے کوشاں ہوگی۔ پارٹی قیادت نے مقامی رہنماؤں کو ہدایت کی ہے کہ وہ عوام کے درمیان رہیں اور ان کی شکایات کو ترجیحی بنیادوں پر حل کریں۔ یہ پیشرفت ظاہر کرتی ہے کہ مسلم لیگ (ن) اب آزاد کشمیر میں اپنی سیاسی پوزیشن کو مستحکم کرنے کے لیے ایک ٹھوس اور حقیقت پسندانہ نقطہ نظر اپنا رہی ہے تاکہ آئندہ کے چیلنجز سے نمٹا جا سکے۔